حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 177
حیات احمد 122 جلد سوم مضمون ختم ہو گیا اور حضرت نے تمہیدی امور کی بحث کو ختم کر کے مولوی صاحب کو وفات مسیح پر بحث کی دعوت کی مگر انہیں اس طرف نہ آنا تھا نہ آئے۔اور یکم اگست ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ اپنی فتح کا ڈھنڈورہ پیٹا۔حضرت نے اس کے جواب میں ایک مبسوط اور مفصل اعلان ۳۱ جولائی ۱۸۹۱ء کے مباحثہ اور اس کے متعلق مولوی محمد حسین صاحب کی عہد شکنی اور شرائط سے خروج کا تفصیلی ذکر ہے اور اسے ازالہ اوہام کے آخر میں بھی شائع کر دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر لودھانہ کا اقدام مولوی محمد حسین صاحب کے جوش و غضب آلودہ پرو پیگنڈہ سے متاثر ہو کر ڈپٹی کمشنر لو دھانہ نے مولوی محمد حسین صاحب کو فور آلود ہانہ سے چلے جانے کے احکام دیئے۔اور وہ چلے گئے۔بعض دوستوں کو خیال گزرا اور باہر سے بھی استفسارات ہوئے کہ کیا حضرت اقدس کے لئے بھی ایسے احکام دیئے گئے ہیں اس لئے حضرت اقدس نے ۵/ اگست ۱۸۹۱ء کو ڈپٹی کمشنر لودھانہ کو ایک چٹھی لکھی تا کہ پبلک اور احباب کی تسلی کے لئے ایک سرکاری دستاویز مل جاوے صاحب ڈپٹی کمشنر نے اس کے جواب میں مندرجہ ذیل خط لکھا:۔اطلاع بعض دوستوں کے خط پہنچے کہ جیسے کہ ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی بعد مباحثہ شہر لو دھانہ حکماً نکالے گئے ہیں۔یہی حکم اس عاجز کی نسبت ہوا ہے۔واضح رہے کہ یہ افواہ سراسر غلط ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اپنی وحشیانہ طرز بحث کی شامت سے لودھانہ سے شہر بدر کئے گئے لیکن اس عاجز کی نسبت کوئی حکم اخراج صادر نہیں ہوا چنا نچہ ذیل میں نقل مراسلہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر لو دھانہ لکھی جاتی ہے از پیش گاہ مسٹر ڈبلیو چٹوس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر لودہانہ۔