حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 173
حیات احمد ۱۷۳ اپنے خانہ زاد اصول موضوعہ کی نسبت سراسر لغو اور بے مصرف جاری کر رکھی تھی جو باراں دن تک ہوتی رہی اور اصل بحث سے کچھ بھی علاقہ نہیں رکھتی تھی اور فریقین کے بیانات دس جزو تک پہنچ گئے تھے اور لوگ سخت معترض تھے کہ اصل بحث کیوں شروع نہیں کی جاتی۔مولوی صاحب کو اس وقت آخری مضمون میں یہ بھی سنادیا گیا کہ اب ہم تمہیدی بحث کو ختم کرتے ہیں آپ نے بھی بہت کچھ لکھ لیا اور ہم نے بھی۔اب اس بے سود بحث کو بند کرنا چاہئے اور اصل بحث کو شروع کرنا چاہئے۔مولوی صاحب کسی طرح نہیں چاہتے تھے کہ اصل بحث کی طرف آویں اس لئے انہوں نے ان شرطوں کو توڑ کر یہ چاہا۔کہ پھر کسی طرح سخت زبانی کر کے اپنی فضول اور بالائی باتوں کو جن کی طوالت کو اصل بحث سے کچھ بھی تعلق نہیں تھا شروع رکھیں مگر ہم نے صاف جواب لکھ دیا تھا کہ بے فائدہ باتوں میں ہم اپنے اوقات کو ضائع کرنا نہیں چاہتے۔کیونکہ تمہیدی گفتگو بہت ہو چکی ہے۔اور عنقریب رسالہ الحق سیالکوٹ میں فریقین کے بیانات چھپ جائیں گے۔تب لوگ خود معلوم کر لیں گے کہ بیچ پر کون ہے۔اب یہ اشتہار صرف اس غرض سے دیا جاتا ہے کہ اگر مولوی صاحب کی نیت بخیر ہے تو اب بھی اس مسئلہ میں بحث تحریری کر لیں۔میرے نزدیک مولوی صاحب کا یہ دعوی بھی بالکل فضول ہے کہ وہ اکابر محدثین کی طرح فن حدیث میں مہارت تمام رکھتے ہیں بلکہ بات بات میں اُن کی نا سمجھی اور غباوت مترشح ہو رہی ہے اگر وہ مجھے اجازت دیں تو میں ان کی حدیث دانی بھی لوگوں پر ظاہر کروں۔مولوی صاحب سے انصاف کی کیا توقع ہو سکتی ہے اور کیا امید کی جاسکتی ہے کہ بڑی بُردباری اور غور سے کسی مضمون کو وہ سن سکیں جس صورت میں آپ نے اپنی تہذیب اور معاملہ شناسی کا علی رؤس الا شہاد یہ نمونہ دیا کہ عام لوگوں کی طرح اپنی بیویوں کو طلاق دینے پر آمادہ ہو گئے اور یہ صرف اس وجہ سے کہ ان کے نزدیک ہم جلد سوم