حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 171 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 171

حیات احمد 121 جلد سوم یہی ہے کہ وہ تنہا بلا کسی مد مقابل کے اپنی نصوص کی صداقت ثابت کرنے والا اور کسی کتاب اور کسی نوشتہ کسی مجموعہ کی طاقت کیا مجال ہے کہ اس کے دعاوی کو توڑنے کا دم مار سکے اور یہی مرزا صاحب کا مدعا ہے۔سو دراصل وہ فیصلے دے چکے اور کر چکے ہیں۔ہمارا ارادہ تھا کہ مولوی ابوسعید صاحب کے اشتہار لودیا نہ مورخہ یکم اگست کی ان باتوں پر توجہ کرتے جن کے جواب کی تحریر کا ایما معزز ایڈیٹر پنجاب گزٹ نے اپنے ضمیمہ میں ہماری طرف کیا تھا مگر ہم نے اس اثنا میں اپنے وسیع تجربہ سے دیکھ لیا ہے کہ معزز اور ذی فہم مسلمان اس بے بنیاد اشتہار کو بتمامہ سخت حقارت سے دیکھنے لگ گئے ہیں ہمارا اس کی طرف اب متوجہ نہ ہونا ہی اسے گمنامی کے اتھاہ کنوئیں میں پھینک دینا ہے۔66 آخر میں ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ اگر مولوی ابو سعید صاحب معنا بھی سعید ہوتے تو یاد کرتے اپنے اس فقرہ کو جو وہ ریویو براہین احمدیہ میں لکھ چکے ہوئے ہیں۔اور وہ یہ ہے۔مؤلف براہین الوہیت غیبی سے تربیت پا کر مورد الہامات غیبیہ و علوم لدنیہ ہوئے ہیں۔“ پھر لکھتے ہیں " کیا کسی مسلمان متبع قرآن کے نزدیک شیطان کو بھی قوت قدسی ہے کہ وہ انبیاء و ملائکہ کی طرح خدا کی طرف سے مُغیبات پر اطلاع پائے اس کی کوئی بات غیب وصدق سے خالی نہ جائے؟ یعنی مرزا صاحب، صاحب قوت قدسیہ ہیں۔اور اللہ تعالیٰ انہیں مُغِيبات پر اطلاع دیتا ہے۔باوجود اس تصدیق اور ایسے اقرار سابق کے مناسب نہ تھا کہ اسی قلم سے کاذب۔مفتری۔نیچری۔اور مغالطہ دہندہ وغیرہ الفاظ نکلتے۔رَبَّنَا إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ - عبدالکریم چونکہ پورا مباحثہ الحق لدھیانہ میں چھپ چکا ہے اُس کے پڑھنے سے ہر سلیم الفطرت اور ، خالی الذہن انسان کو معلوم ہو جائے گا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔مباحثہ کے اختتام پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اشتہار شائع کیا۔