حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 166 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 166

حیات احمد ۱۶۶ جلد سوم چالا کی نہ چلی۔لیکن ایک پرچہ پھر بھی چرا لیا۔جس کا مباحثہ میں حوالہ دیا گیا۔مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر دو چار ہی لوگ ہوتے تھے۔تیرہ روز تک یہ مباحثہ رہا۔اور لوگ بہت سے تنگ آگئے اور چاروں طرف سے خطوط آنے لگے اور خاص کر لودھانہ کے لوگوں نے غل مچایا کہ کہاں تک اصول موضوعہ میں مباحثہ رہے گا۔اصل مطلب جو وفات اور حیات مسیح کا قرار پایا ہے وہ ہونا چاہئے۔خدا کرے ان اصول موضوعہ مولوی صاحب کا ستیا ناس ہو دے۔اور حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی بار ہا فرمایا مباحثہ تو وفات وحیات مسیح میں ہونا ضروری ہے تا کہ سب مسائل کا یکدم فیصلہ ہو جاوے مگر مولوی صاحب اس اصل مسئلہ کی طرف نہ آئے پر نہ آئے۔مولوی صاحب کے پاس چونکہ دلائل حیات مسیح کے نہ تھے اس واسطے اس بحث کو ٹالتے رہے۔شہر میں یہ چرچا ہوا کہ دو شخص بحث کر رہے ہیں۔ایک خود مذہب ایک لا مذ ہب۔خود مذہب حضرت اقدس علیہ السلام کو کہتے تھے اور لامذہب مولوی محمد حسین صاحب کو کہتے تھے۔غرض جب تیرہواں روز مباحثہ کا ہوا تو عیسائی۔مسلمان۔ہندو وغیرہ کا بہت ہجوم ہو گیا۔میں نواب صاحب مرحوم موصوف کی کوٹھی پر تھا اور روانگی کا ارادہ کر رہا تھا۔حضرت اقدس مع مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور منشی غلام قادر صاحب فصیح اور قاضی خواجہ علی صاحب اور الہ دین صاحب واعظ و غیر هم مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے اور میرے پاس مولوی نظام الدین مرحوم اور مولوی عبداللہ مجتہد مرحوم کو بھیجا کہ جلد صاحبزادہ سراج الحق صاحب کو لے آؤ۔پس میں چلا اور مکان کا دروازہ مولوی محمد حسن نے باشارہ مولوی محمد حسین صاحب بند کرا دیا تھا کہ کوئی آدمی مرزا صاحب وغیرہ کا مضمون سننے کے لئے نہ آوے چونکہ مضمون میرے پاس تھا۔اور رات بھر میں نے اصل سے نقل دینے کے واسطے کر لی تھی اس واسطے اور بھی حضرت اقدس کو میرا انتظار ہوا۔جب میں آیا تو دروازہ بند پایا۔اور دروازہ پر اور سینکڑوں آدمی تھے۔بمشکل تمام دروازه مولوی نظام الدین صاحب مرحوم نے کھلوایا۔میرے ساتھ سب آدمی اندر گھس گئے مولوی محمد حسن صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب کا چہرہ زرد ہو گیا۔مجھ سے