حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 165 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 165

حیات احمد جلد سوم کہے کہ لفظ لفظ حرف حرف حدیث کا وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے۔اگر نہیں ہے تو میری جو رو پر طلاق ہے۔تو بے شک و شبہ اس کی بیوی پر طلاق پڑ جاوے گا۔یہ حضرت اقدس کی زبانی تقریر کا خلاصہ ہے۔اس بیان اور تقریر پر اور نیز اس پر چہ تحریری پر جو حضرت اقدس علیہ السلام سناتے تھے۔چاروں طرف سے واہ واہ کے اور سبحان اللہ سبحان اللہ کے نعرے بلند ہوتے تھے۔اور یہاں تک ہوتا تھا کہ سوائے سعد اللہ اور مولوی صاحب کے ان کی طرف کے لوگ بھی سبحان اللہ بے اختیار بول اٹھتے تھے۔دو تین شخصوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ مرزا صاحب جو زبانی بحث نہیں کرتے اور تحریری کرتے ہیں۔وہ تقریر نہیں کر سکتے مگر آج معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کو زبانی تقریر بھی اعلیٰ درجہ کی آتی ہے اور ملکہ تقریر کرنے کا بھی اوّل درجہ کا ہے۔اور آپ جو تحریر کو پسند کرتے ہیں اس لئے نہیں کہ آپ تقریر کرنے میں عاجز ہیں بلکہ اس واسطے کہ تحریر سے حق و باطل کا خوب فیصلہ ہو جاوے اور ہر ایک پوری طرح احقاق حق اور ابطال باطل میں تمیز کرلے اور حاضر و غائب پر پورا پورا سچ اور جھوٹ کھل جاوے۔مولوی صاحب اس پر خفا ہوتے اور کہتے کہ لوگو! تم سننے کو آئے ہو یا واہ واہ اور سبحان اللہ کہنے کو آئے ہو۔اور جو دونوں طرف کی تحریریں ہیں وہ طبع ہو چکی ہیں ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس مباحثہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حدیث اور قرآن شریف پر سیر کن بحث کی ہے۔اور آئندہ کے لئے تمام بحثوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔چھ سات روز تک یہ مباحثہ حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر ہوا۔اب مولوی صاحب نے پیر پھیلائے اور چاہا کہ کسی طرح سے پیچھا چھوٹے۔بہانہ یہ بنایا کہ اتنے روز تو آپ کے مکان پر مباحثہ رہا اب میری جائے فردوگاہ یعنی مولوی محمد حسن صاحب غیر مقلد کے مکان پر مباحثہ ہونا چاہئے حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ بھی منظور فرمالیا اور باقی دنوں تک مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر مباحثہ رہا جب حضرت اقدس علیہ السلام وہاں تشریف لے جاتے تو میں حاضر ہو جاتا ورنہ مجھے بلوا لیتے اور جب تک میں حاضر نہ ہو لیتا تو آپ تشریف نہ لے جاتے آخر کار یہ ہوا کہ چالاکیاں تو مولوی محمدحسین صاحب نے بہت کیں مگر کوئی