حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 158 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 158

حیات احمد ۱۵۸ جلد سوم بنام غلام احمد پہنچی ہے کہ مولوی نورالدین صاحب جو بحث شروع کر کے بھاگ گیا ہے اُس کو واپس کر و ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے۔مولوی نور الدین نے مجھ کو لکھا کہ عام جلسہ کا انتظام ہوتو مع مرزا صاحب کے لاہور وہ پہنچیں اور مجھ کو نیز ایماء تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب کی خدمت میں عرض کی جاوے کہ ۱۴ / اپریل کو قریب ۹ بجے دن کے جو اُن کو یکانت کام پر جانا پڑا کیسا ضروری امر تھا۔میری رائے میں 9 بجے جو مولوی نورالدین نے گفتگوختم کی اس میں ضرورت واقعی تھی۔بعد وصول رقعہ مولوی نور الدین کے منشی عبد الحق صاحب کے ساتھ بخدمت مولوی محمد حسین صاحب چپراسی روانہ کیا اور عبدالحق صاحب نے بخدمت مولوی محمد حسین صاحب خط مرزا غلام احمد صاحب کا پیش کیا۔آخر ۷ ار اپریل ۱۸۹۱ء کو منشی عبدالحق صاحب نے مجھ کولکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے بجواب خط مرزا صاحب لکھ دیا ہے کہ بعد مطالعہ کتاب ازالہ اوہام بحث کے واسطے تاریخ مقرر کریں گے۔الغرض ۹ بجے تک ۱۴ر اپریل کو گفتگو ہر دو صاحبان کی ہوتی ہوئی میں نے سنی۔آخر کار سوالات و جوابات میرے سامنے ہمواجہ ہر دوفریق پڑھے گئے اور ان کو صحیح مانا گیا۔پھر مولوی نورالدین صاحب نے کہا کہ بعد صفائی کے دستخط کریں گے۔یکم مئی۔احقر خدا بخش اس بیان سے اصل حقیقت کا اظہار مولوی صاحب کے گروہ سے ہوتا ہے اس کے بعد میں اس تحریری شہادت کو درج کرتا ہوں جس کا حوالہ اس عنوان کے شروع میں کیا ہے کہ مولوی محمد حسن صاحب کے پس پردہ خود شیخ بٹالوی تھے ان کے خطوط کو اسی سلسلہ میں درج کر دیتا ہوں اب بٹالوی صاحب کا بیان پڑھیں۔لدھیانہ کے علما سے آپ نے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ شروع کیا اور اس کو چند روز کا مشغلہ سمجھ کر اشتہار ۳ رمئی میں ان کو مدعو مباحثہ کیا۔اس میں میرے دوست مولوی محمد حسن صاحب رئیس لودھانہ کو بھی مخاطب کیا۔ان کے خطاب میں بدقسمتی سے آپ کے قلم سے یہ فقرہ بھی نکل گیا کہ ان کو اختیار ہوگا کہ چاہیں تو بذات خود بحث کریں اور چاہیں تو اپنی طرف سے مولوی ابوسعید محمد حسین