حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 150 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 150

حیات احمد ۱۵۰ جلد سوم اپنے خط میں گفتگو سے انکار کر چکے ہیں۔لہذا اگر میں بلا درخواست اُن کے پاس پہنچا تو وہ کہیں گے ہم تو مباحثہ سے انکار کر چکے ہیں پھر آپ کیوں آئے۔حاجی صاحب میرے جواب سے آشفتہ خاطر ہوئے اور یہ مضمون زبان پر لائے کہ آپ نہ آئیں گے تو وہ لوگ (مسیحائی پارٹی) ہم لوگوں کو ( جو آپ کے ہم خیال ہیں ) گریز کی طرف منسوب کریں گے۔اور اس بات کے مظہر ہوئے کہ حکیم صاحب اس مضمون کا رقعہ نہ لکھیں گے۔اس پر میں نے کہا حکیم صاحب نہ لکھیں تو یہ بات حافظ صاحب تحریر کر کے میرے پاس بھیج دیں کہ حکیم صاحب آپ کے نام رقعہ لکھنے سے انکار کرتے ہیں۔مگر ہم لوگ آپ کو ان سے گفتگو کے لئے بلاتے ہیں۔یہ جواب لے کر حاجی صاحب خفگی کے ساتھ واپس ہوئے اور تھوڑی دیر کے بعد میاں رجب دین صاحب کو ( جو ایسے مشکلات کے وقت وکیل بنائے جایا کرتے ہیں ) لے کر میرے پاس آئے اور حافظ جی کا وہی پیام لائے۔میں نے اس کے جواب میں پھر وہی بات کہی۔مگرمیاں رجب دین صاحب نے میرے اس جواب کی مخالفت میں بہت زور دیا اور یہی کہا کہ اگر آپ نہ آئے تو ہم لوگوں پر گریز کا الزام قائم ہو جائے گا۔اور جب خط کا ذکر آیا تو انہوں نے ایک خط بھی حافظ صاحب کا جیب سے نکال کر پیش کیا۔( جس کا مضمون غالبا وہی تھا جو مرزا صاحب کے وکیل اڈیٹر پنجاب گزٹ نے اپنے پرچہ ۲۵ را پریل میں مشتہر کیا ہے ) مگر چونکہ اس خط کا مضمون وہ نہ تھا جو میرا مطلوب تھا بلکہ وہ مضمونِ مطلوب اور قاصدوں کی زبانی پیام کے مخالف تھا۔لہذا میں نے اس خط کو پڑھ کر واپس کیا۔اور اس کے ساتھ خوش طبعی سے یہ بھی کہا کہ اس خط کو آپ یا حافظ صاحب شہد لگا کر چاٹ لیں۔اس پر بھی میاں رجب دین صاحب نے اپنی بات پر اصرار نہ چھوڑا۔آخر میں نے ان کے اصرار پر صبح کو حاضر مجلس ہونا قبول کیا۔صبح کو پھر میاں رجب دین صاحب اور ان کے بعد محمد چٹو صاحب میرے بلانے کو آئے۔میں ان کے ہمراہ صبح کے ساڑھے چھ بجے منشی امیر دین صاحب کے مکان پر پہنچا تو وہاں پر بڑا مجمع پایا جو میرے پہنچنے کے بعد اور زیادہ ہو گیا تھا اس مجمع کے ارکان ( سابق اور لاحق ) سے خصوصیت کے ساتھ لائق ذکر یہ اصحاب و احباب ہیں جناب عبدالرحمن