حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 151 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 151

حیات احمد ۱۵۱ جلد سوم صاحب خلف الرشید مولوی محمد بن بارک اللہ ساکن لکھو کے ( جن کا ذکر مرزا صاحب کے خط نمبر ۵ میں ہے ) جناب مولوی محمد عبد اللہ صاحب پروفیسر عربی کالج لاہور۔جناب سید فقیر جمال الدین ریکس و آنریری اسسٹنٹ کمشنر لاہور۔جناب شیخ خدا بخش صاحب حج عدالت خفیفہ لاہور۔مولوی عبدالعزیز صاحب رکن انجمن حمایت اسلام و ملازم سر رشتہ تعلیم پنجاب۔ایسے ہی بعض اصحاب لائق ذکر اور تھے مگر ان میں اسلامی اور حقانی جوش ایسا نہیں ہے کہ وہ مسیحائی پارٹی کا لحاظ نہ کریں۔اور شہادتیں دیں۔خاکسار مجلس میں پہنچا تو بعد سلام و مزاج پرسی حضار سب سے پہلے جو کلمہ زبان پر لایا وہ یہ تھا کہ حافظ صاحب آپ نے جو مجھے بلایا ہے تو کس غرض سے بلایا ہے؟ حافظ صاحب نے فرمایا کہ اس غرض سے بلایا ہے کہ آپ مرزا صاحب کے متعلق حکیم صاحب سے گفتگو کریں۔اس کلمہ کے (یا جو اس کے معنی میں ہو ) سو حافظ صاحب نے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا۔نہ مجھے کچھ کہا نہ حکیم صاحب سے۔پھر خاکسار نے حکیم صاحب سے مخاطب ہو کر کہا میں نے مولوی فضل الدین صاحب کی زبانی سنا ہے کہ آپ لودھا نہ سے مجھ سے مباحثہ کرنے کو تشریف لائے ہیں۔حکیم صاحب نے کہا کہ یہ غلط بات ہے مگر میں حافظ محمد یوسف کے حکم میں ہوں۔حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ اب میں گفتگو کو حاضر ہوں پھر خاکسار نے کہا کہ میں قبل از بحث مقصود چند اصول آپ سے تسلیم کرانا چاہتا ہوں۔کیونکہ بحث سے پہلے اصول طے ہو جائیں گے تو اثناء بحث میں دلائل سے رڈو قبول میں اختلاف نہ ہوگا انہی اصول موضوعہ و مسلمہ کو دلائل میں پیش کیا جائے گا۔حکیم صاحب نے اس امر کو منظور کیا۔اور حسب تفصیل ذیل سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔خاکسار نے کہا (۱) کتاب اللہ وسنت اتفاقی حجج شرعیہ ہیں۔حکیم صاحب نے فرمایا مسلّم ہے۔خاکسار (۲) سنت سے وہ اقوال و افعال ( لائق اقتدا) و تقریرات نبویہ مراد ہیں۔جو کتب حدیث میں مروی ہیں۔