حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 149 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 149

حیات احمد ۱۴۹ جلد سوم علم سے ناواقف نہیں اور یہ امراب پبلک کے سامنے آ گیا ہے۔اب پرائیویٹ خط و کتابت کو بند کیجئے۔میں لوگوں سے مباحثہ کروں مجھے اختیار ہے۔مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عقائد کی اصلاح کروں۔اس سے زیادہ میں اس لئے نہیں لکھتا کہ میں آپ سے مایوس ہوں۔نورالدین۔۳؎ پھاگن اس خط کی تحریر سے حکیم صاحب نے تو مباحثہ کو ختم کیا۔اور یہ جان لیا تھا کہ چلو چھٹی ہوئی اس بلا سے جان بچی۔مگر خدا نے نہ چاہا کہ اس سے ان کو بچاوے اور ان کے انکار کا بجز پر مبنی ہونا چھپا رہنے دے لہذا حق تعالیٰ نے حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار انہار کے دل میں اس خیال کا القا کیا کہ جس طرح ہو سکے جانِبین کو ایک جگہ جمع کریں اور ان کی باہم گفتگو کرا دیں۔پس پہلے تو حافظ صاحب ہمر ا ہی منشی عبدالحق صاحب حکیم صاحب کے پاس جموں پہنچے مگر وہاں سے واپس آئے تو مایوسی کے مظہر ہوئے۔پھر جب حکیم صاحب بہ شمولیت راجگان جموں سے لاہور میں آئے تو اس وقت حافظ صاحب لاہور میں نہ تھے۔اس وجہ سے حکیم صاحب ہمارے قابو میں نہ آئے ( ہر چند اور لوگوں کے ذریعہ ہم طالب مباحثہ ہوئے ) اور حکیم صاحب اپنے مسیح کے پاس لدھیانہ جا پہنچے۔۱۲ / اپریل کو مولوی فضل الدین صاحب ساکن گجرات لدہانہ سے آکر خاکسار کو لاہور میں ملے تو مظہر ہوئے کہ آپ کے مقابلہ اور مباحثہ کے لئے مرزا صاحب تیاری کر رہے ہیں۔کل مولوی نورالدین اور ان کے ایک شاگرد کو (جس کی بدگوئی اور پھکڑ بازی کے سبب اس کا نام بھی ہم زبان پر لانا نہیں چاہتے ) روانہ کریں گے۔۱۳ / تاریخ اپریل کو حافظ محمد یوسف صاحب بھی لاہور پہنچ گئے۔اور ادھر سے حکیم صاحب رونق افروز لا ہور ہو کر منشی امیرالدین صاحب کے مکان پر فروکش ہوئے۔رات کے دس بجے منشی امیر الدین کے بھائی حاجی محمد دین صاحب حافظ جی کا یہ پیام لائے کہ حکیم صاحب تشریف لے آئے ہیں۔آپ صبح آویں اور حکیم صاحب سے گفتگو کریں۔میں نے اس پیام کا جواب یہ دیا کہ میں گفتگو کے لئے تب آؤں گا جب حکیم صاحب کا دستخطی رقعہ متضمن درخواست مباحثہ پاؤں گا۔کیونکہ حکیم صاحب