حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 148
حیات احمد ۱۴۸ جلد سوم شاہپور مقیم و ملازم ریاست جموں مراد ہیں۔وہ اپنے احباب کے سامنے اپنے حواری ہونے کا دعوی کر چکے ہیں اُن کے اس ادعا پر ہم نے ان کو فرضی حواری کہا ہے۔واقع میں وہ مرزا صاحب کے حواری ( بمعنی ناصر ) نہیں بلکہ بجائے نصرت ان کو ضرر پہنچا رہے ہیں۔آپ کے نام ہم نے ایک خط لکھا تھا جس کی نقل ذیل میں معروض ہے۔لا ہور۔۱۰ فروری ۱۸۹۱ء محبّی مولوی نورالدین صاحب۔السلام علیکم اس کا رسپانڈنس کی نقل اس غرض سے آپ کے پاس بھیجی گئی ہے کہ آپ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں میں مستعد ہوں کہ مرزا صاحب کے اس دعویٰ کی تغلیط کروں۔آپ ہمیشہ اور لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں مگر میں نے ایک دفعہ مرزا صاحب کی بابت آپ کو کچھ کہا تو آپ نا خوش ہو گئے اب بھی وہی حال ہے تو خیر اور اگر ان کی بابت کچھ کہنے اور سننے کا حوصلہ ہے تو بہتر ہے لاہور میں تشریف لاویں اور ان کے معاملے میں گفتگو کریں۔توضيح المرام اور ازالة الاوهام سے اس دعوی کی تصحيح نہ ہو گی آپ سے کچھ ہو سکتا ہے تو کریں۔ابھی وقت ہے۔اب کی دفعہ لاہور میں میں آپ سے ملا تو جو کچھ آپ نے مجھ سے اور میں نے آپ سے اُن کے باب میں کہا اس کو بعینہ یا اس کا مضمون نقل کریں۔مجھے اُس سے ایک مطلب نکالنا ہے۔ابوسعید محمدحسین اس خط کا جواب جو حکیم صاحب نے دیا وہ ذیل میں منقول ہے۔رَبِّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْخَلْقِ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْم - مولا نا السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ جناب والا کو خاکسار بہت مدت سے مرزا جی کے خلاف پر مستعد یقین کرتا ہے۔جناب سورج کے سامنے نجوم کی شعاع کو کون دیکھتا ہے ابھی مرزا زندہ ہیں۔میں آپ کے دعاوی اور