حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 145 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 145

حیات احمد ۱۴۵ اختصار اور حفظ اوقات کی غرض سے اپنے کل دلائل اول پر چہ میں ہی پیش کر دیں اور اس عاجز کی طرف سے بھی صرف ایک پرچہ ان کے جواب میں ہوگا۔وہی دونوں پرچے سوالات و جوابات کے حاضرین کو سنائے جائیں اور اخباروں میں چھپوا دیئے جائیں۔اس سے حق اور باطل خود روشن ہو جائے گا۔اور تحریرات ہر دو فریق سے ہر یک حاضر اور غائب کو خوب سوچ کے ساتھ حق کے سمجھنے اور رائے لگانے کا موقع مل جاوے گا۔اگر چہ کتاب ازالہ اوہام چھپ رہی ہے۔جو چھپیں جزو کے قریب ہوگی اور یہ تمام مباحث معہ دیگر معارف و حقائق کے اس میں کامل طور پر درج ہیں۔مگر یہ مولوی صاحبان اس کو ہرگز نہیں دیکھیں گے تا ایسا نہ ہو کہ آنکھیں کھل جائیں اور حق کو قبول کرنا پڑے۔بلکہ میں نے سنا ہے کہ ان حضرات میں سے اکثر مولوی صاحبان یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی مسلمان ان کتابوں کو نہ دیکھے يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ۔لیکن یہ اشتہار بہر حال دیکھنا پڑے گا۔اور عوام الناس اگر چہ بڑی بڑی کتابوں کو نہیں پڑھتے مگر اس مختصر اشتہار کے مضمون سے بے خبر نہیں رہ سکتے۔لہذا میں نے اتمام حجت کی نیت سے اس کو لکھا ہے۔اور میں بآواز بلند کہتا ہوں کہ میرے پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور القا سے حق کھول دیا ہے۔اور وہ حق جو میرے پر کھولا گیا ہے وہ یہ ہے کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کی روح اپنے خالہ زاد بھائی بیٹی کی روح کے ساتھ دوسرے آسمان پر ہے۔اس زمانہ کے لئے جو روحانی طور پر مسیح آنے والا تھا جس کی خبر احادیث صحیحہ میں موجود ہے وہ میں ہوں۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو لوگوں کی نظروں میں عجیب اور تحقیر سے دیکھا جاتا ہے۔اور میں کھول کر لکھتا ہوں کہ میرا دعویٰ صرف مبنی بر الہام نہیں۔بلکہ سارا قرآن شریف اس کا مصدق ہے۔تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کی شاہد ہیں۔عقل خدا داد بھی اسی کی مؤید ہے۔اگر مولوی صاحبوں کے پاس مخالفانہ طور الصف : ٩ جلد سوم