حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 130 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 130

حیات احمد ۱۳۰ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصِلَّى محتی اخویم مولوی صاحب سَلَّمه السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاته عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کو کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوئی جس کا جواب لکھا جائے اس عاجز کے دعوی کی بناء الہام پر تھی اگر آپ ثابت کرتے کہ قرآن اور حدیث اس دعوئی کے مخالف ہے اور پھر یہ عاجز آپ کے ان دلائل کو اپنی تحریر سے توڑ نہ سکتا تو آپ تمام حاضرین کے نزدیک سچے ہو جاتے اور بقول آپ کے میں اس الہام سے تو بہ کرتا لیکن خدا جانے آپ کو کیا فکر تھی جو آپ نے اس راہ راست کو منظور نہ کیا خیر اب ازالہ اوہام کا رڈلکھنا شروع کیجئے لوگ خود دیکھ لیں گے۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ جلد سوم مکتوبات احمد یہ جلد۴ صفحہ ۱۹۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۳۳۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اگر چہ اس خط پر تاریخ سہوا لکھی نہیں گئی مگر یہ آخر اپریل ۱۸۹۱ء کا خط ہے اور اس کے ذریعہ مزید خط و کتابت کو بند کر دیا۔مگر مولوی محمد حسین صاحب نے اب دوسرا طریق اختیار کیا۔مولوی محمد حسن صاحب کے نام سے خطوط لکھنے سے شروع کئے اگر چہ وہ خطوط مولوی محمد حسین صاحب ہی کے تھے مگر ان پر مولوی محمد حسن صاحب کے دستخط ہوتے تھے آپ نے پسند نہ فرمایا کہ ان کا جواب دیا جاوے اس خط و کتابت کو بھی میں اس سلسلہ میں درج کرتا ہوں تاکہ واقعات کا سلسلہ قائم رہے اور اس خط و کتابت کا نتیجہ ہی آخر وہ مباحثہ ہوا۔جو مباحثہ لودھانہ کے نام سے موسوم ہے اور الحق سیالکوٹ میں شائع ہو گیا تھا۔ایک طرف مولوی محمد حسین صاحب نے اعلان جنگ کر دیا تھا۔دوسری طرف لکھو کے والے اور لودھانہ کے علماء نے ہنگامہ برپا کیا ہوا تھا۔غزنوی جرگہ نے مولوی عبدالحق کو قربانی کا بکرا بنا کر اشتہار