حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 127
حیات احمد ۱۲۷ جلد سوم ظاہر ہو گا کہ آپ صرف اس بات کے مستحق ہیں کہ مجھ سے تشخیص دعوی کرا دیں سو میں نے بذریعہ فتح اسلام و توضیح مرام اور نیز بذریعہ اُس حصہ ازالہ اوہام کے جو قول فصیح میں شائع ہو چکا ہے اچھی طرح اپنا دعوی بیان کیا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اس سے زیادہ اور کوئی میرا دعوی نہیں کہ جو آپ پر مخفی ہو اور وہ دعوی یہی ہے کہ میں الہام کی بنا پر مثیل مسیح ہونے کا مدعی ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ حضرت مسیح ابن مریم در حقیقت فوت ہو گئے ہیں سو اس عاجز کا مثیل مسیح ہونا تو آپ اشاعۃ السنہ میں امکانی طور پر مان چکے ہیں اور میں اس سے زیادہ آپ سے تسلیم بھی نہیں کرا تا اگر میں حق پر ہوں تو خود اللہ جل شانہ میری مدد کرے گا اور اپنے زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کر دے گا۔رہا ابن مریم کا فوت ہونا سوفوت ہونے کے دلائل لکھنا میرے پر کچھ فرض نہیں کیونکہ میں نے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جو خدا تعالیٰ کی سنت قدیمہ کے مخالف ہو بلکہ مسلسل طور پر ابتدائے حضرت آدم سے یہی طریق جاری ہے۔جو پیدا ہو وہ آخر ایک دن جوانی کی حالت میں یا بڑھا ہو کر مرے گا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں وَمِنْكُمْ مَّنْ تُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمْرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ” بس جب کہ میرے پر یہ فرض ہی نہیں کہ میں مسیح کے فوت ہو نے کے دلائل لکھوں اور ان کا فوت ہونا تو میں بیان ہی کر چکا۔تو اب اگر میں آپ سے پہلے لکھوں تو فرمایئے کیا لکھوں یہ تو آپ کا حق ہے کہ میرے بیان کے ابطال کے لئے پہلے آپ قلم اٹھائیں اور آیات اور احادیث سے ثابت کر دکھا ئیں کہ سارا جہاں تو اس دنیا سے رخصت ہوتا گیا اور ہمارے نبی کریم بھی وفات پاگئے مگر مسیح اب تک وفات پانے سے باقی رہا ہوا ہے۔کسی مناظر کو پوچھ کر دیکھ لیں کہ داب مناظرہ کیا ہے۔الحج : 4