حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 126 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 126

حیات احمد کب کہا تھا کہ مجھے ڈھیل دیں آپ کی آدھی رات کو تار آئی میں تیار ہو گیا۔آپ کی اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے خرچ دے کر بلا توقف اپنا آدمی روانہ کیا۔بحث منظور کر لی۔سب انتظام مجلس اپنے ذمہ لے لیا مگر آپ ہماری تیاری کا نام سنتے ہی کنارہ کش ہو گئے۔اب سوچیں کہ کیا میں نے بحث کو ڈھیل میں ڈال دیا یا آپ نے۔اگر میں آپ ہی لاہور پہنچتا تو کس قدر تکلیف ہوتی آپ کی اس حرکت نے نہ صرف آپ کو شرمندہ کیا بلکہ آپ کی تمام عظمند پارٹی کو خجالت کا حصہ دیا۔اس کنارہ کشی کا آپ پر بڑا بار ہے کہ جو بودے عذروں سے دور نہیں ہوسکتا آپ نے ناگوار طریقہ سے مقابل پر آنے کی دھمکی تو دی مگر آکر آپ ہی نہ ٹھہر سکے۔کیا اس دعوئی کے ساتھ جو آپ کو ہے علمی وجاہت پر دھبہ نہیں لگاتے۔قولہ۔اگر آپ عین مباحثہ کے جلسہ میں اصول کی تمہید و تسلیم سے ڈریں تو میں ان اصول کو آپ کے پاس وہاں بھیج دیتا ہوں تا آپ کو آپ کے سمجھنے کے لئے کافی مہلت مل جائے۔ناگہانی ابتلا سے بچ جائیں اور وہ حال نہ ہو جو آپ کے حواری کا ہوا۔اقول۔حضرت آپ کو خود مناسب ہے کہ آپ ان اصولوں سے ڈریں کوئی عقلمندان بیہودہ باتوں سے ڈر نہیں سکتا۔اور میں آپ کے ان اصولوں کو محض لغو سمجھتا ہوں اور ایسے لغویات کی طرف سے مجھے یہ آیت روکتی ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔☆ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ اور نیز یہ حدیث نبوی که من حُسنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيْهِ - یہ بات ظاہر ہے کہ جو بات ضرورت سے خارج ہے وہ لغو ہے اب دیکھنا چاہئے کہ اس بحث کے لئے شرعی طور پر آپ کو کس بات کی ضرورت ہے سواد نی تامل سے المؤمنون: ۴ جلد سوم