حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 125 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 125

حیات احمد ۱۲۵ جلد سوم آج ۱۶ / اپریل ۱۸۹۱ء کو آپ کی خدمت میں خط بھیجا گیا ہے اور ۲۰ / اپریل ۱۸۹۱ء تک آپ کا جواب نہ پہنچا تو یہی خط آپ کے رسالے کے جواب میں کسی اخبار میں شائع کر دیا جاوے گا۔مرزا غلام احمد بقلم خود ۶ اراپریل ۱۸۹۱ء مکتوبات احمد یہ جلد ۲ صفحہ ۱۳ تا ۱۶۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۳۲۳ تا ۳۲۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اسی سلسلہ میں دوسرا خط مولوی محمد حسین صاحب کے جواب میں لکھنا پڑا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي از عائد بِاللهِ الصَّمَد غلام احمد عَا فَاهُ اللَّهُ وَأَيَّدَهُ بخدمت اخویم مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا باعث تعجب ہوا آپ نہ تو اظہارِ حق کی غرض سے بحث کرنا چاہتے ہیں اور نہ اس جوش بے اصل سے باز رہ سکتے ہیں۔عزیز من رَحِمَكُمُ الله! یہ عاجز آپ کو کوئی الزام نہیں دینا چاہتا مگر آپ ہی کا قول و فعل آپ کو الزام دے رہا ہے آپ کا آدھی رات کو تار پہنچا کہ ابھی آؤ ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے کس قدر آپ کی اس تارو پود سے مخالف ہے جو آپ اب پھیلا رہے ہیں۔افسوس کہ آپ نے بحث کرنے کے لئے بذریعہ تار بلایا پھر آپ گریز کر گئے اور اب آپ کا خط، مشت بعد از جنگ کا نمونہ ہے فضول باتوں کو پیش کر کے اور بھی تعجب میں ڈالتا ہے چنانچہ ذیل میں آپ کے اقوال کا جواب دیتا ہوں۔قولہ۔دو باتیں جن سے آپ کو ڈھیل دیتا ہوں لکھتا ہوں۔اقول۔حضرت یہ تو آپ حیلہ سے اپنے تئیں ڈھیل دے رہے ہیں میں نے