حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 122 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 122

حیات احمد ۱۲۲ قرار پا گیا ہے وہی زمین پر ہو گا گودیر سے ہی سہی لیکن اس عاجز کو تعجب ہے کہ آپ نے کیونکر یہ گمان کر لیا کہ مولوی حکیم نورالدین صاحب آپ سے بھاگ کر چلے آئے آپ نے ان کو کب بلایا تھا کہ تا وہ آپ سے اجازت مانگ کر آتے؟ اصل بات تو اس قدر تھی کہ حافظ محمد یوسف صاحب نے مولوی صاحب ممدوح کی خدمت میں خط لکھا تھا کہ مولوی عبد الرحمن اس جگہ آئے ہوئے ہیں۔ہم نے ان کو دو تین روز کے لئے ٹھہرا لیا ہے تاکہ ان کے رو برو ہم بعض شبہات اپنے آپ سے دور کرا لیں اور یہ بھی لکھا کہ ہم اس مجلس میں مولوی محمد حسین صاحب کو بھی بلا لیں گے چنانچہ مولوی صاحب موصوف حافظ صاحب کے اصرار کی وجہ سے لاہور پہنچے ار منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر اترے اور اس تقریب پر حافظ صاحب نے اپنی طرف سے آپ کو بھی بلا لیا تب مولوی عبد الرحمن صاحب تو عین تذکرہ میں اٹھ کر چلے گئے اور جن صاحبوں نے آپ کو بلایا تھا انہوں نے مولوی صاحب کے آگے بیان کیا کہ ہمیں مولوی محمد حسین صاحب کا طریق بحث پسند نہیں آیا یہ سلسلہ تو دو برس تک بھی ختم نہیں ہوگا۔آپ خود ہمارے سوالات کا جواب دیجئے ہم مولوی محمد حسین صاحب کے آنے کی ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ انہوں نے آپ کو بلایا ہے۔تب جو کچھ ان لوگوں نے پوچھا مولوی صاحب موصوف نے بخوبی ان کی تسلی کر دی یہاں تک کہ تقریرختم ہونے کے بعد حافظ محمد یوسف صاحب نے بانشراح صدر آواز سے کہا کہ اے حاضرین میری تو مِنْ كُلِّ الْوُجُوه تسلی ہو گئی اور میرے دل میں نہ کوئی شبہ نہ کوئی اعتراض باقی ہے پھر بعد اس کے یہی تقریر منشی عبد الحق صاحب و منشی امیر الدین صاحب اور مرزا امان اللہ صاحب نے کی اور بہت خوش ہو کر ان سب نے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور تہ دل سے قائل ہو گئے کہ اب کوئی شک باقی نہیں اور مولوی صاحب کو یہ کہہ کر رخصت کیا کہ ہم نے محض اپنی تسلی کرنے کے لئے آپ کو تکلیف دی تھی سو ہماری بھی تسلی ہو گئی آپ بلا حرج تشریف لے جائیے۔سو انہوں نے ہی بلایا اور جلد سوم