حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 119
حیات احمد ۱۱۹ تھی انبیائے بنی اسرائیل کی سنن مشہورہ کا اقتداء کیا کرتے تھے اور وحی کے بعد جب کچھ ممانعت پاتے تھے تو چھوڑ دیتے تھے اس کو تو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے آپ جیسے فاضل کیوں نہیں سمجھیں گے۔مجھے نہایت تعجب ہے کہ آپ یہی طریق انصاف پسندی کا قرار دیتے ہیں۔کیا اس عاجز نے کسی جگہ دعویٰ کیا ہے کہ میرا ہر ایک نطق وحی اور الہام میں داخل ہے اگر آپ طریق فیصلہ اسی کو ٹھہراتے ہیں تو بسم اللہ میرے رسالے کا جواب لکھنا شروع کیجیئے آخر حق کو فتح ہوگی۔میں نے آپ کو ایک صلاح دی تھی کہ عام جلسہ علماء کا مقام امرتسر منعقد ہوا اور ہم دونوں حسبةً لله و اظهار اللحق اس جلسہ میں تحریری طور پر اپنی اپنی وجوہات بیان کریں اور پھر وہی وجوہات حاضرین کو پڑھ کر سنا دیں اور وہی آپ کے رسالہ میں چھپ جائیں دور نزدیک کے لوگ خود دیکھ لیں گے۔جس حالت میں آپ اس کام کے لئے ایسے سرگرم ہیں کہ کسی طرح رکتے نہیں اور جب تک اشاعۃ السنہ میں عام طور پر اپنے مخالفانہ خیال کو شائع نہ کر دیں صبر نہیں کر سکتے تو کیا اس تحریری مباحثہ میں کسی فریق کی کسر شان ہے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس جلسہ میں خاک کی طرح متواضع ہو کر حاضر ہو جاؤں گا اور اگر کوئی ایسی سخت دشنامی بھی کرے جو انتہا تک پہنچ گئی ہو تو میں اس پر بھی صبر کروں گا اور سراسر تہذیب اور نرمی سے تحریر کروں گا خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے جو اس نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔اگر آپ مجھے اب بھی اجازت دیں تو میں اشتہارات سے اس جلسہ کے لئے عام طور پر خبر کر دوں اب میری دانست میں خفیہ طور پر آپ کا مجھ سے ذکر کرنا مناسب نہیں جب آپ بہر حال اشاعت پر مستعد ہیں تو محض للہ اس طریق کو منظور کریں۔جلد سوم