حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 117 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 117

حیات احمد 112 جلد سوم چاہے گا اس کی راہ پیدا کر دے گا۔اگر آپ کی ملاقات ہو تو میں خوشی سے چاہتا ہوں مگر آپ کے آنے کا کرایہ میرے ذمے رہے۔میں آپ کو مالی تکلیف دینا نہیں چاہتا۔یہ بہتر ہے کہ آپ اس جگہ آجائیں۔بہر حال ملاقات کی خوشی تو اس بیماری کی حالت میں ہو گی ازالتہ الا وہام عنقریب تیار ہوتا ہے بھیج دوں گا ابھی کچھ باقی ہے۔والسلام غلام احمد مکتوبات احمد یہ جلد چہارم صفحہ ۱۰،۹۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۳۱۹، ۳۲۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) مخدومی مکرمی بِسْمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کا خط آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا اور اس کے پڑھنے سے مجھ کو بہت ہی افسوس ہوا کہ آپ مکالمات الہیہ کے امر کو لہو ولعب میں داخل کرنا چاہتے ہیں۔یہ بیچ ہے کہ اس عاجز نے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸ و ۴۹۹ میں اس ظاہری عقیدے کی پابندی سے جو مسلمانوں میں مشہور ہے یہ عبارت لکھی ہے کہ یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق میں پھیل جائے گا چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خدا وند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو شریک رکھا ہے۔فقط لیکن ان عبارتوں کو اس امر کے لئے دستاویز ٹھہرانا کہ براہین میں اوّل یہ اقرار ہے اور پھر اُس کے مخالف یہ دعویٰ اور ایسا خیال سراسر غلط اور دور از حقیقت ہے۔اے میرے عزیز دوست اس عاجز کے اس دعوی کی جو فتح اسلام میں شائع کیا