حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 112 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 112

حیات احمد (1) اگر آپ ہندوستان کی طرف سفر کرنا چاہتے تو لدھیانہ راہ میں ہے۔کیا بہتر نہیں کہ لدھیانہ میں ہی یہ مجلس قرار پائے۔یہ عاجز بیمار ہے حاضری سے عذر کچھ نہیں۔مگر ایسی صورت میں مجھے بیماری کی حالت میں شدائد سفر اٹھانے سے امن رہے گا۔ور نہ جس جگہ غزنوی صاحبان اور مولوی عبدالرحمن (اس عاجز کو ملحد اور کا فرقرار دینے والے) یہ جلسہ منعقد ہونا مناسب سمجھیں تو اسی جگہ یہ عاجز حاضر ہو سکتا ہے۔والسلام مکرر یہ کہ ۲۳ / مارچ ۹۱ ، تاریخ جلسہ مقرر ہو گئی ہے اور یہ قرار پایا ہے کہ بمقام امرتسر یہ جلسہ ہو۔اشتہارات عام طور پر اپنے واقف کاروں میں یہ عاجز شائع کر دے گا۔ایسا ہی آپ کو بھی اختیار ہے آپ بواپسی ڈاک جواب سے مطلع فرما دیں کہ جواب کا انتظار ہے۔خاکسار غلام احمد از لد ہیا نہ محلہ اقبال گنج مکان شہزادہ غلام حیدر جلد سوم مکتوبات احمد یہ جلد چہارم صفحہ ۷ تا ۹۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۳۱۷ تا ۳۱۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) خط و کتابت کا یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔اور مولوی محمد حسین صاحب اپنی مخالفت میں سختی کا رنگ اختیار کرتے گئے۔اس وقت سہ رخی لڑائی لڑنا چاہتے تھے حضرت حکیم الامت کو الگ خطوط لکھتے تھے اور حضرت مولوی محمد احسن صاحب کو الگ جبکہ وہ بھوپال میں موجود تھے چونکہ ایک زمانہ میں مولوی محمد احسن صاحب فرقہ اہلحدیث میں ایک سر بر آوردہ بزرگ تھے اور انہوں نے مِصْبَاحُ الْآدِگہ نام ایک کتاب لکھ کر اپنے فرقہ میں خاصی شہرت حاصل کی تھی اور خود مولوی محمد حسین صاحب نے اس پر بڑار یو یولکھا تھا اس نے اپنی جگہ خیال کیا تھا کہ شاید میرے خطوط ان پر ایسا اثر کریں کہ وہ اس کی تائید کریں لیکن یہ تو امر محال تھا۔حضرت کا یہ طریق تھا کہ حضرت حکیم الامت کو واقعات سے برابر آگاہ رکھتے تھے۔