حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 99 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 99

حیات احمد ۹۹ جلد سوم باوجود اپنی کم علمی اور بے مائیگی کے ان سے مباحثات کرتا اور وہ مجھے یعقوب حواری کہتے اشاعۃ السنہ میں بھی میرے متعلق لکھا۔میرے تعلقات با وجود مخالفت کے برابر بڑھتے رہے میں ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیتا اور میری کوشش تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ جائے اور تو بہ کرے یہ کہانی لمبی ہے اور اس عہد کے لوگ جانتے ہیں اور خود اشاعۃ السنہ اہلحدیث اور پیسہ اخبار وغیرہ میں تذکرے آچکے ہیں اور مجھے اس وقت خوشی ہے کہ وہ آخر تو بہ کر کے فوت ہوئے جیسا کہ حضرت کی یہ پیشگوئی تھی۔اس تعارفی نوٹ کے بعد اب میں ان کی مخالفت کے آغا ز کا ذکر کرتا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب کی مخالفت کا آغاز مولوی محمد حسین صاحب کو اس نئے دعوی کی خبر یوں تو لوگوں کی زبان سے ہو چکی تھی اتفاق سے ان کا رسالہ اشاعۃ السنہ بھی ریاض ہند پریس امرتسر میں چھپتا تھا جہاں فتح اسلام چھپ رہا تھا اور وہ اس رسالہ کی طباعت وکتابت کے لئے امرتسر گئے ہوئے تھے وہاں انہوں نے فتح اسلام کے پروف دیکھے اور ان کو ایک جلن سی پیدا ہوئی (یہ جلن الْعِلْمُ حِجَابُ الْأَكْبَرُ کے ماتحت تھی) اور اس نے غصہ سے بیتاب ہو کر حضرت کو ایک خط لکھا یہ ۳۱ / جنوری ۱۸۹۱ ء ہی کا واقعہ - خط و کتابت کا آغاز ہے۔یہ خط اس نے اشاعۃ السنہ جلد ۱۲ نمبر ۱۲ صفحه ۳۵۴ پر لکھا جس کا ایک حصہ جو آغاز مخالفت پر روشنی ڈالتا ہے حسب ذیل ہے۔آپ کا رسالہ فتح اسلام امرتسر میں چھپ ہی رہا تھا کہ میں اتفاقاً امرتسر پہنچا اور میں نے اس رسالہ کا پروف مطبع ریاض ہند سے منگا کر دیکھا اور پڑھوا کر سنا اس کے دیکھنے اور سننے سے میری سمجھ میں آیا کہ آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ اس دعوی سے کیا آپ کی یہ مراد ہے