حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 98
حیات احمد ۹۸ جلد سوم اس لئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم ان کے حالات و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دئے جانے کے لائق ہے۔(اشاعۃ السنۃ جلدے نمبر ۶ صفحہ ۱۷۶) اور پھر اسی سلسلہ میں حضرت کے متعلق نکتہ چینی کرنے والوں کو وہ پولٹیکل نکتہ چیں ہوں یا مذہبی نکتہ چیں کفران نعمت کرنے والا ٹھہراتے ہیں اور وہ بھی سرسری طور پر نہیں بلکہ لکھا کہ۔ہماری تحقیق و تجربه و یقین و مشاہدہ کی رو سے یہ سب نکتہ چینیاں ( مذہبی ,, ہیں خواہ پولٹیکل ) از سرتا پا سوء منہمی یا دیدہ دانستہ دھوکہ دہی پر مبنی ہیں۔(اشاعۃ السنۃ جلدے نمبر ۶ صفحه ۱۷۵) یتھی وہ ابتدا کی حالت مولوی محمد حسین صاحب کی۔حضرت اقدس کو وضو کر وانے اور آپ کی جو نتیوں کو اٹھا کر سامنے رکھنے میں وہ سعادت سمجھتے تھے مگر پھر جب مخالفت کا آغاز ہوا تو وہ انتہا تک پہنچ گیا۔کفر کے فتوے تیار کرائے اور مقدمات کئے۔دوسروں کے مقدمات میں مخالف شہادت دی اور تمام تعلقات اخلاص دشمنی اور عداوت سے تبدیل ہو گئے اور کوئی دقیقہ مخالفت اور عداوت کا باقی نہ رہنے دیا مگر اس حالت میں حضرت نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ یہ شخص مرنے سے پہلے تو بہ کرے گا اور آخر ایسا ہی ہوا۔جس کا ذکر اپنے موقعہ پر آئے گا۔یہ ہے مختصر تعارف مولوی محمد حسین صاحب کا۔میں اور مولوی محمد حسین صاحب خاکسار عرفانی کو مولوی محمد حسین صاحب سے ۱۸۹۱ء سے تعلق ہوا۔اس وقت وہ لاہور میں لسوڑے والی مسجد میں رہتے تھے اور چینیاں والی مسجد سے نکل چکے تھے ان کے دو بڑے زبر دست لفٹینٹ مکرم خلیفہ رجب الدین صاحب غفرلہ اور بابا محمد چٹو مرحوم ان سے فرنٹ ہو چکے تھے۔میری فطرت ہمیشہ غیر مرعوب رہی۔مولوی صاحب سے تعلق احمدیت کے ہی سلسلہ میں ہوا۔میں