حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 97 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 97

حیات احمد ۹۷ جلد سوم کی تقریر کو سن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابلِ اعتراض ہو اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسی ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔چونکہ خالصاً خدا اور اُس کے رسول کے لئے انکسار اور تذلل اختیار کیا گیا۔اس لئے اُس محسنِ مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔فَتَدَبَّرُوْا وَتَفَكَّرُوْا) ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲۲،۶۲۱) یہ واقعہ خود حضرت کی حق پسندی اور تقویٰ پر بھی روشنی ڈالتا ہے مگر میں اس وقت صرف مولوی محمد حسین صاحب کا تعارف قارئین کرام سے کرا رہا ہوں یہ ۶۹۔۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے اس کے بعد حضرت اقدس سے مولوی محمد حسین صاحب کے تعلقات بڑھتے گئے اور وہ آپ کے نقدس و تقویٰ کو ایام طالب علمی سے جانتا تھا اور اس کے دل میں آپ کے لئے بڑی عظمت تھی۔جب آپ نے براہین احمدیہ کی تصنیف کا سلسلہ شروع کیا تو مولوی محمد حسین صاحب کی عقیدت اور بھی بڑھ گئی۔وہ خود عالم تھا اور براہین احمدیہ کے علمی مقام کا اس پر ایسا اثر تھا کہ اس نے اس کتاب پر ایک زبر دست ریو یولکھا۔اور اس ریویو کو لکھتے وقت مولوی صاحب نے پہلے اس امر کا اظہار کیا کہ آپ ذاتی طور پر مؤلف براہین احمدیہ سے واقف ہیں چنانچہ لکھا۔مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے ( جب ہم قطبی اور شرح ملا پڑھتے تھے ) ہمارے ہم مکتب۔اس زمانہ سے آج تک ہم میں اُن میں خط و کتابت و ملاقات ومراسلت برابر جاری رہی ہے