حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 46 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 46

حیات احمد ۴۶ جلد دوم حصہ اوّل تک آپ کے مساعد تھے؟ آپ کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب ( مرحوم ) کی وفات ہو چکی تھی۔اور جائیداد کا تمام انتظام پہلے ہی جناب حضرت مرزا غلام قادر صاحب ( مرحوم ) آپ کے برادر بزرگ کے ہاتھ میں تھا۔آپ کو نہ دنیوی معاملات سے دلچسپی تھی۔اور نہ ادھر توجہ کرتے تھے۔اس لئے اپنی ضروریات زندگی میں ایک صبور و شکور بندے کی حالت میں گزارہ کرتے تھے۔اگر چہ آپ کے اپنے حصہ کی جائیداد دس ہزار روپیہ کی مالیت سے زائد تھی۔مگر آپ نے اس جائیداد کو تقسیم کر کے اپنے ہاتھ میں لینا پسند نہ کیا۔اور جس طریق پر خاندانی انتظام چلا آتا تھا۔اُس میں مداخلت کرنا تو در کنار کسی قسم کی دلچسپی ہی نہ لی۔ان حالات میں آپ کے پاس براہین احمدیہ کی طبع و اشاعت کے مادی اور خارجی اسباب ہرگز نہ تھے۔باوجود یکہ مالی مشکلات آپ کی راہ میں تھے۔لیکن آپ نے اس کتاب کی تالیف اور طبع کا ایک عزم صمیم کر لیا تھا۔اور آپ کو یقین کامل تھا کہ یہ کتاب طبع ہو کر شائع ہو گی۔اور اپنے فیوض و برکات کے دامن کو وسیع کرے گی۔اور مُردے اس کے ذریعہ زندہ ہوں گے۔براہین احمدیہ کی طباعت بھی نشان ہے حقیقت یہ ہے کہ اگر حضرت ان ایام میں دنیوی حیثیت سے عسرت کی زندگی بسر نہ کر رہے ہوتے۔تو اس کتاب کی طبع واشاعت ایک معمولی کام ہوتا۔اور اس میں خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت کا کھلا کھلا ہاتھ نظر نہ آتا۔لیکن اس قسم کی مالی مشکلات کے باوجود خدا تعالیٰ کا قبل از وقت آپ کو اس کتاب کی اشاعت و طباعت وغیرہ کے متعلق مبشرات دینا اور پھر ان کا ظہور میں آنا ایک عظیم الشان نشان ہے۔حضرت نے خود اس نشان کو اپنی صداقت کا نشان قرار دیا ہے اور مختلف تصانیف میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- ” جب میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ تصنیف کی جو میری پہلی تصنیف ہے۔تو مجھے یہ مشکل پیش آئی۔کہ اس کی چھپوائی کے لئے کچھ روپیہ نہ تھا۔اور میں ایک گمنام