حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 47
حیات احمد ۴۷ جلد دوم حصہ اوّل آدمی تھا۔مجھے کسی سے تعارف نہ تھا۔تب میں نے خدا تعالیٰ کی جناب میں دعا کی تو وو 66 یہ الہام ہوا ” هُزّ إِلَيْكَ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكَ رُطَبًا جَنِيًّا “۔(دیکھو براہین احمدیہ ہر چہار صص صفحہ ۲۲۶۔روحانی خزائن جلد اصفحه۰ ۲۵ حاشیه در حاشیہ نمبرا) ( ترجمہ ) کھجور کے تنہ کو ہلا۔تیرے پر تازہ بتازہ کھجور میں گریں گی۔چنانچہ میں نے اس حکم پر عمل کرنے کے لئے سب سے اول خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ حال مرحوم۔عرفانی) کی طرف خط لکھا۔پس خدا نے جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا ان کو میری طرف مائل کر دیا۔اور انہوں نے بلا توقف اڑھائی سو روپیہ بھیج دیا۔اور پھر دوسری دفعہ اڑھائی سو روپیہ دیا۔اور چند اور آدمیوں نے روپیہ کی مدد کی۔اور اس طرح پر وہ کتاب باوجود نومیدی کے چھپ گئی۔اور وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔یہ واقعات ایسے ہیں کہ صرف ایک دو آدمی ان کے گواہ نہیں، بلکہ ایک جماعت کثیر گواہ ہے۔جس میں ہندو بھی ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۳۷۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۰) اس الہام کے بعد آپ نے سب سے پہلی تحریک امداد کے لئے خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ کو کی۔مگر بعض دوسرے لوگوں کو بھی آپ نے تحریک کی۔اور اس بشارت سے سب سے اوّل جس بیرونی آدمی کو آپ نے خبر دی وہ حافظ ہدایت علی خاں صاحب اکسٹرا اسٹنٹ ضلع گورداسپور تھے جو اسی یا دوسرے ہی دن قادیان آئے تھے۔اور اسی ہفتہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو دی۔اور قادیان کے ہندو مسلمانوں کو تو اسی روز دے دی گئی تھی۔نفسِ مضمون براہین احمدیہ ہر چہار حصص صفحہ ۲۲۶ حاشیہ نمبر ا۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۵۱،۲۵۰ حاشیہ نمبر۲) جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے۔براہین کی تصنیف کے وقت آپ حسرت کی زندگی بسر کرتے تھے۔اور آپ کے پاس روپیہ طبع واشاعت کے لئے نہ تھا۔آپ نے خود اس کا ذکر فرمایا ہے۔شاید تین سال کے قریب (براہین کی تصنیف کے