حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 11
حیات احمد 11 66 ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے۔“ براہین احمدیہ کا وجود ایک پیشگوئی کا پورا ہونا تھا جلد دوم حصہ اوّل غرض براہین احمدیہ کی تصنیف کی تحریک بظاہر تو آریہ سماج کے ساتھ قلمی جنگ سے ہوئی اور پھر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مامور فرما کر اس کام کو آپ کے خیال اور ارادہ سے بالا کر دیا اور اس طرح پر ایک پیشگوئی پوری ہو گئی جس کا اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی خیال بھی نہ آیا تھا۔واقعات اور حالات کے اس طرح پر جمع ہو جانے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خدائی کا روبار تھا جس میں انسانی عقل اور ہاتھ کا کوئی دخل نہ تھا۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے میں واقعات کا سلسلہ پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود کو رویا کے ذریعہ براہین احمدیہ کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۶۴ء میں ایک رؤیا دیکھی جس کو آپ نے اس طرح پر بقیہ حاشیہ: اور ان کے توابع ہیں جو اپنے کو آریہ سماج کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجز اپنے دید کے حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور حضرت محمد مصطفییٰ علیہم السلام کی تکذیب کرتے ہیں اور نعوذ باللہ توریت اور زبور اور انجیل اور فرقان مجید کو محض افترا انسان کا سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کو توہین کے کلمات سے یاد کرتے ہیں اور ایسے الفاظ بولتے ہیں جو سنے نہیں جاتے۔چنانچہ ایک صاحب نے جو ان میں سے سفیر ہند میں بہ طلب ثبوت حقانیت فرقانِ مجید کئی مرتبہ بنام ہمارے اشتہار بھی دیا ہے۔غرض اب ہم نے ان کا اور ان کے اشتہاروں کا کام تمام کر دیا ہے اور دین اسلام کی صداقت اور فرقان مجید کی سچائی اور اس کی تعلیم کا علو شان ایسا ثابت کر دیا ہے کہ ہر ایک منصف کے دل سے قرآن کے دلائل اور اس کی عالی تعلیم اور اس کی خوبیوں کو دیکھ کر إِنَّكَ أَنتَ الأعلى کی آواز آئے گی اور اس کتاب کا نام براہین احمدیہ عَلَى حَقِّيَّةِ كِتَابِ اللَّهِ الْقُرْآنِ وَالنُّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِ یہ رکھا گیا ہے۔خدا اس کو مبارک کرے اور بہتوں کو اس کے ذریعہ سے اپنی