حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 10
حیات احمد جلد دوم حصہ اول اثبات کا ایک کارگر تر یہ ہو گئی۔یہی نہیں بلکہ کتاب کی تدوین و ترتیب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے خیال اور ارادے سے بالا ہو گئی۔چنانچہ چوتھی جلد کی اشاعت تک حالات میں ایسی تبدیلی ہوئی کہ حضرت ممدوح کو ایک اعلان ” ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان سے شائع کرنا پڑا جس میں آپ نے ظاہر فرمایا کہ: ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد میں اس کے قدرت اللہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پر دہ غیب سے إِنِّي أَنَا رَبُّكَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتم ظاہراً اور باطناً حضرت رب العالمین بقیہ حاشیہ: اس کتاب کے دلائل کو توڑے یا اپنی کتاب میں جس کو الہامی خیال کرتا ہے اسی قدر دلائل حقانیت یا اس سے نصف یا اس سے ثلث یا اس سے رُبع یا اس سے خمس ثابت کر کے دکھلا دے گا یا دیا گیا ہے۔بدین مضمون کہ اگر کسی کو دین اسلام کی حقانیت میں شک ہو یا اپنے دین کو اس سے بہتر جانتا ہو یا بہتر ہونے کا احتمال رکھتا ہو یا لامذہب بن کر یہ کہتا ہو کہ کوئی دین سچا نہیں تو اگر وہ بحسب شرائط متذکرہ بالا کے پورا پورا جواب دے دے جس کو تین منصف جو فریقین کے مذہب سے بے تعلق ہوں تسلیم کر لیں جو فی الحقیقت پورا پورا جواب ہے تو خواہ وہ شخص مجھ سے تمسک لکھا لے یا رجسٹری کرا لے یا جس طرح چاہے اطمینان کر کے اور خود آ کر املاک منقولہ اور غیر منقولہ میری دیکھے اگر جواب اس کا پورا ہوگا تو میں بقدر قیمت دس ہزار روپیہ کے جو میرے تصرف اور قبضہ میں جائیداد ہے اسے حوالہ کر دوں گا اور آپ الگ ہو بیٹھوں گا۔بخدا میں سچے دل سے کہتا ہوں کہ اسی عہد پر اس کتاب کو شائع کیا جاوے گا کوئی منکر کیا جانتا ہے جو اس کتاب میں کیا کیا دلائل ہیں جب وہ دیکھے گا جانے گا۔اور اس کتاب کے تصنیف ہونے کا اصل باعث پنڈت صاحب