حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 55 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 55

حیات احمد جلد دوم حصہ اول کتاب جو چھپ رہی ہے اس مطبع میں کیسے آئی۔شیخ نوراحمد صاحب۔ساری کتاب میں نے اپنے مطبع ریاض ہند میں چھاپی ہے۔صرف پہلا حصہ پادری صاحب کے مطبع میں چھپا اور وہ بھی میں نے ہی چھاپا ہے۔اب اُن کا پریس بند ہے اور وہ خود خیر الدین کی مسجد کے پیچھے رہتے ہیں۔حضرت اقدس۔رجب علی صاحب ہمیں تنگ کرتے ہیں اور پیشگی روپیہ لے کر بھی کام وقت پر نہیں دیتے۔اب ہم اُن کو روپیہ دینے آئے ہیں اور کتاب ابھی چھپی نہیں۔اگر ہم کو پہلے سے معلوم ہوتا تو آپ ہی سے چھپواتے۔ہمیں اس وقت بڑی خوشی ہوئی کہ ایک مسلمان کے مطبع میں کتاب چھپ رہی ہے اور ہمارا منشا یہ ہے کہ حصہ چہارم آپ ہی کے ہاں چھاپیں اور چھپنے کے بعد جب کتاب مکمل ہو جاوے تو ایک ماہ کے بعد بتدریج ہم آپ کو روپیہ دیدیں گے کیا آپ یہ انتظام کر سکتے ہیں۔شیخ نور احمد صاحب مجھے منظور ہے آپ بعد تکمیل کتاب ایک ماہ بتدریج روپیہ عنایت فرمانا شروع کر دیں۔حضرت اقدس یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور یہ معاہدہ طباعت براہین کے متعلق ہو گیا۔فرمایا کاغذ بھی اپنے پاس سے لگاؤ۔اور چھپائی، ترتیب ، سلائی ، کٹائی سب کام تیار کر کے اور مکمل کر کے کام ہمیں دو۔اُس وقت آپ نے کوئی نرخ وغیرہ طے نہیں کیا۔صرف یہ فرمایا۔کہ ہم کام اچھا چاہتے ہیں اور بعد میں کبھی اس کے نرخ وغیرہ کے متعلق آپ نے نہیں فرمایا کہ یہ زیادہ ہے۔جو ہل آپ کی خدمت میں پیش ہوتا اُسے ادا کر دیتے۔شیخ صاحب کہتے تھے کہ میں نے رجب علی سے نصف خرچ یا اُس سے بھی کم پر کتاب چھاپ دی۔وہ یہ بھی کہتے تھے کہ مجھے جب کتاب دی گئی تو قادیان بلا کر دی تھی۔میں نے دیکھا کہ میاں شمس الدین اس کتاب سے مسودہ کی نقل کرتے تھے۔ان کا خط اچھا تھا۔جس قدر نقل ہو