حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 43 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 43

حیات احمد ۴۳ جلد دوم حصہ اول مولوی چراغ علی صاحب نے جو کتا ہیں لکھی ہیں ان کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کے اسلوب بیان اور طریق استدلال کو بھی حضرت کے اسلوب اور طریق استدلال سے کوئی نسبت نہیں۔میں اس وقت کوئی موازنہ قائم کرنا نہیں چاہتا اور نہ اس کتاب کا یہ منشاء ہے مگر یہ بالکل واضح امر ہے کہ حضرت اقدس کا طریق استدلال بالکل انوکھا اور ممتاز ہے۔دوسرے لوگوں نے اعتراضات سے بچنے کے لئے زیادہ تر الزامی جواب دے کر میدان سے ہٹ جانے کی کوشس کی مگر آپ نے نادان معترض کی سفاہت علمی کو کھول کر رکھ دیا اور تعلیمات قرآنی کی افضلیت اور حقیقت کو واضح کر دیا۔آپ کے معاصرین نے براہین احمدیہ پر مخالفانہ ریویو بھی لکھنے کی کوشش کی مگر ان میں سے کسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ براہین کے متعلق أَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ اخَرُونَ کا دعوی کریں میں جیسا کہ پہلے بھی لکھ آیا ہوں یہ صفائی سے کہتا ہوں کہ اگر براہین کی تصنیف میں کسی شخص کی قلم اور دماغ نے کچھ بھی مدد دی ہوتی آپ نہایت فراخدلی سے اس کا اعتراف کرتے۔یہ آپ کی سیرت (کریکٹر ) کا ایک بہت نمایاں پہلو ہے کہ آپ نے جب بہ حیثیت مصنف کسی دوسرے اہل قلم کی تحقیقات اور کوشش سے استفادہ کیا ہے یا اپنے بیان اور تحقیقات کی تائید میں بطور مؤید پیش کیا ہے تو اس کے نام کا شرح صدر سے اظہار کیا ہے اور اس کی محنت کی داد دی ہے اور ایسے وقت میں جب کہ آپ کے لاکھوں مرید تھے۔طبعی طور پر انسان ایسے حالات میں جب کہ اس کے ارد گرد عقیدتمندوں کی بہت بڑی جماعت ہو اپنی وضعداری کے خلاف سمجھتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی تصنیف وتالیف سے کچھ لے اور اس کا اقرار کرنے کی جرات کرے یہ اخلاقی کمزوری ہے جو خودغرض مصنفین میں پائی جاتی ہے