حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 44 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 44

حیات احمد ۴۴ جلد دوم حصہ اوّل لیکن جو خدا کی طرف سے کھڑے ہوتے ہیں وہ اس عیب سے پاک ہوتے ہیں حضرت اقدس نے جب چشمہء معرفت لکھی اور یہ ۱۹۰۸ء کا واقعہ ہے یہ کتاب آپ کی وفات سے قریبا دو ہفتہ پیشتر شائع ہوئی۔آپ نے چشمہ معرفت میں شرد ہے پر کاش برہمو کی کتاب ”سوانح عمری حضرت محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کچھ اقتباس لیا۔اور نہایت مسرت کے جذبات کے ساتھ اس کا اعتراف کیا اور اس کتاب کے لئے جماعت کو سپارش بھی فرمائی۔( نفس مضمون چشمه معرفت صفحه ۲۴۵ - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵۵) اسی طرح ایک دفعہ آپ نے ہندو اور آریہ کی بحث کے سلسلہ میں پادری ٹامس ہاول ( جو اسلام کا بہت ہی خطرناک دشمن تھا) کے ایک مضمون کو اپنی ایک تصنیف کے حاشیہ میں دیا اور اس کا اعتراف کیا۔ان حالات میں حضرت کے طریق عمل کے بھی یہ خلاف تھا کہ آپ اگر کسی سے کوئی مدد لیتے تو اس کا اعتراف نہ کرتے اس لئے یہ تو صریح غلطی اور خلاف واقعات ہے کہ آپ نے مولوی چراغ علی صاحب سے کوئی امداد لی البتہ ان مکتوبات کے اقتباس سے ایک امر پر ضرور روشنی پڑتی ہے کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلال اور قرآن مجید کی حقانیت کے اظہار و اعلان میں کس قدر جوش تھا کہ اگر کوئی شخص اس مقصد کے لئے ذرا بھی آگے بڑھنا چاہتا تو آپ اس کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر وقت آمادہ رہتے۔اور اس طرح پر آپ مسلمانوں میں یہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ وہ ناموس نبوت کی صیانت کے لئے اپنے وقت اور فکر کی قربانی کرنا سیکھیں۔ان مکتوبات کے پڑھنے سے ایک اور امر پر بھی روشنی پڑتی ہے جو حضرت کی سیرت کا ایک ممتاز پہلو ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ایک جدید علم کلام کے بانی تھے۔چنانچہ آپ نے مولوی چراغ علی صاحب کو لکھا ہے کہ کتاب اللہ کی نفس الا مر خوبی اور عمدگی کو دکھایا جاوے یا معقولی رنگ میں کتاب اللہ کی ضرورت کو ثابت کیا جاوے۔منقولی معجزات پیش کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔یہ ایک عظیم الشان اور