حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 85
حیات احمد ۸۵ جلد دوم حصہ اول کئی ایک پادری صاحبوں اور ہندو صاحبوں نے جوش میں آکر اخبار سفیر ہند اور نو را فشاں اور رسالہ و ڈ یا پر کا شک میں ہمارے نام طرح طرح کے اعلان چھپوائے ہیں جن میں وہ دعوی کرتے ہیں کہ ضرور ہم رڈ اس کتاب کی لکھیں گے اور بعض صاحب ڈوموں کی طرح ایسے ایسے صریح ہجو آمیز الفاظ استعمال میں لائے ہیں کہ جن سے اُن کی طینت کی پا کی خوب ظاہر ہوتی ہے گویا وہ اپنی او باشانہ تقریروں سے ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ ہم تو ان کی تہہ سے واقف ہیں اور اُن کے جھوٹے اور ذلیل اور پست خیال ہم پر پوشیدہ نہیں۔سو اُن سے ہم کیا ڈریں گے اور وہ کیا ڈراویں گے آپ سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں۔افلاطون بن جاویں، بیکن کا اوتار دھاریں، ارسطو کی نظر فکر لاویں، اپنے مصنوعی خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے آلِهَ بَاطِلَہ۔اور جب تک اس کتاب کا جواب نہ دیں تب تک بازاروں میں عوام کا لانعام کے سامنے اسلام کی تکذیب کرنا یا ہنود کے مندروں میں بیٹھ کر ایک وید کو ایشر کرت اور ست وڈیا اور باقی سارے پیغمبروں کو مفتری بیان کرنا صفت حیا و شرم سے دور سمجھیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ دوم صفحہ ۲ و ۳ ٹائٹل پیج۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۵۵ تا ۵۷) بقیہ حاشیہ۔باستد عا اہلِ اسلام اور ہانہ میں پہنچ گئے اور وہاں کے مسلمان ان کے فیض زیارت اور شرف صحبت سے مشرف ہوئے۔ان کی برکات اور اثر صحبت کو دیکھ کر اکثر چندہ دینے والے ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس چندہ کے بہت سے روپیہ طبع و اشاعت براہین احمدیہ کے لئے مؤلف کی خدمت میں پیش کش کئے گئے۔اور مولوی صاحبان مذکور تہی دست ہو کر ہاتھ ملتے رہ گئے۔اس امر نے بھی ان حضرات کو بھڑکا یا اور مؤلف کی تکفیر پر آمادہ کیا۔جن کو ان باتوں کے صدق میں شک ہو وہ ہم کو اس امر سے مطلع کرے ہم اور ہانہ سے عمدہ اور واضح طور پر ان باتوں کی تصدیق کرا دیں گے۔وَ بِاللهِ التَّوْفِيقِ (اشاعة السنه نمبر ۶ جلد ۷ صفحه ۱۷۰ تا ۱۷۲ حاشیہ)