حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 83
حیات احمد ۸۳ جلد دوم حصہ اول بیرونی مخالفین یہاں تک تو میں نے براہین احمدیہ کے اندرونی مخالفین کا ذکر کیا ان کے علاوہ براہین کی مخالفت کے لئے بیرونی دشمنوں ہندوؤں اور عیسائیوں میں جوش پیدا ہوا اور ہر ایک قوم نے اپنی پوری قوت اور متحدہ طاقت سے اس نور حق کی مخالفت کے لئے کوشش کی مگر جس نور کے اتمام کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے وہ مخالفین کی پھونکوں سے کس طرح بجھایا جا سکتا ہے۔یہ مخالفت جلد اوّل بقیہ حاشیہ۔پڑھنے سے قارئین کرام کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت کی مخالفت کے اسباب اس وقت کیا تھے۔چنانچہ مولوی ابو سعید صاحب لکھتے ہیں (نوٹ۔لائق توجہ گورنمنٹ ) اس انکار و کفران پر باعث لو دیا نہ کے بعض مسلمانوں کو تو صرف حسد و عداوت ہے۔جس کے ظاہری دوسبب ہیں۔ایک یہ کہ ان کو اپنی جہالت ( نہ اسلام کی ہدایت) سے گورنمنٹ انگلشیہ سے جہاد و بغاوت کا اعتقاد ہے اور اس کتاب میں اس گورنمنٹ سے جہاد و بغاوت کو نا جائز لکھا ہے۔لہذا وہ لوگ اس کتاب کے مؤلف کو منکرِ جہاد سمجھتے ہیں اور از راہ تعصب و جہالت اُس کے بغض و مخالفت کو اپنا مذ ہی فرض خیال کرتے ہیں مگر چونکہ وہ گورنمنٹ کے سیف و اقبال کے خوف سے علانیہ طور پر اُن کو منکر جہاد نہیں کہہ سکتے اور نہ سر عام مسلمانوں کے روبرو اس وجہ سے اُن کو کا فر بنا سکتے ہیں لہذا وہ اس وجہ کفر کو دل میں رکھتے ہیں اور بجز خاص اشخاص ( جن سے ہم کو یہ خبر پہنچی ہے ) کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور اس کا اظہار دوسرے لباس و پیرایہ میں کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ براہین احمدیہ میں فلاں فلاں امور کفریہ دعوی نبوت اور نزول قرآن اور تحریف آیات قرآنیہ پائی جاتی ہیں ) اس لئے اس کا مؤلف کا فر ہے۔موقعه جلسه دستار بندی مدرسہ دیوبند پر یہ حضرات بھی وہاں جا پہنچے اور لمبے لمبے فتویٰ تکفیر مؤلّف براہین احمدیہ کے لکھ کر لے گئے اور علماء دیوبند و گنگوہ وغیرہ سے ان پر دستخط ومواہیر ثبت کرانے کے خواستگار ہوئے مگر چونکہ وہ کفر اُن کا خانہ ساز کفر تھا جس کا کتاب براہین احمدیہ میں کچھ اثر نہ پایا جاتا تھا۔لہذا علماء دیوبند اور گنگوہ نے ان فتووں پر مہر و دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور ان لوگوں کو تکفیر مؤلّف سے روکا۔اور کوئی ایک عالم بھی اُن کا اس تکفیر میں موافق نہ ہوا۔جس سے وہ بہت ناخوش ہوئے اور بلا ملاقات وہاں سے بھاگے اور كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَة کے