حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 74
حیات احمد ۷۴ جلد دوم حصہ اوّل عرفانی اس موقعہ پر یہ ذکر کرنے سے نہیں رک سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے نواب صاحب ممدوح کی اس اعانت کو قبول فرمایا اور ان کے وجود کو ایک آیۃ اللہ کا رنگ دے دیا۔علاوہ بریں دنیا میں ان کے خاندان کی خدمت کا بعض اشد ضرورتوں کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ادنی خادم ( عرفانی) کو موقعہ دیا جو ہمیشہ یہی یقین کرتا ہے کہ یہ موقعہ نواب صاحب کی اسی اعانت کی قبولیت کے ثمرہ میں ملا ہے۔اسی سلسله اعانت میں ضلع بلند شہر کے ایک رئیس تھے جنہوں نے اپنا نام ظاہر کرنے سے حضرت کو منع کر دیا تھا اور اپنے اخلاص اور سری اعانت کا نمونہ دکھایا تھا میں اس کتاب کے پڑھنے والوں کو اسی رنگ میں اس بزرگ کے لئے دعا کی تحریک کرتا ہوں۔پھر ایک عہدہ دار محمد افضل خان نام نے ایک سو دس روپیہ اور نواب صاحب مالیر کوٹلہ نے تین نسخہ کی قیمت میں سو روپیہ بھیجا۔یہ تو مسلم رؤسا کی اعانت کا تذکرہ تھا۔مگر براہین احمدیہ کی اشاعت و اعانت کی توفیق ایک سکھ رئیس سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لودھیانہ (بہدوڑ ) کو بھی ملی۔حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ :- سرا در عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لودھیانہ نے کہ جو ایک ہندو رئیس ہیں اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے بطور اعانت ۲۵ روپے بھیجے ہیں۔سردار صاحب نے ہندو ہونے کی حالت میں اسلام سے ہمدردی ظاہر کی۔“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۳۱۹) سردار صاحب ایک بے تعصب اور علم دوست رئیس تھے انہوں نے اپنے ذاتی صرفہ سے بقیہ حاشیہ۔تک پہنچتا ہے اور اس طرح پر یہ خاندان فاروقی ہے۔اعلیٰ حضرت نظام حیدر آباد کے خاندان سے اس خاندان کو تعلقات قرابت ہیں چنانچہ مرحوم نظام آپ کے ماموں زاد بھائی تھے اور اعلیٰ حضرت حال خَلَّدَ اللهُ مُلک کے آپ پھوپھا تھے۔یہ خاندان حیدر آباد میں بہت معزز اور واجب الاحترام سمجھا جاتا ہے۔(عرفانی)