حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 73 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 73

حیات احمد ۷۳ جلد دوم حصہ اول میں سے ہی نہیں تمام مسلمانانِ ہند میں سے کہلانے کے مستحق ہیں وہ حضرت خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب مرحوم پٹیالوی ہیں۔اس وقت خلیفہ صاحب ریاست پٹیالہ کے پرائم منسٹر تھے۔حضرت نے ان کی اعانت کے متعلق یہ تحریر فرمایا ہے : اس جگہ بطور تذکرہ خاص کے اس بات کا ظاہر کرنا بھی ضروری ہے کہ اس کارِ خیر میں آج تک سب سے زیادہ حضرت خلیفہ سید محمد حسن خانصاحب بہادر وزیر اعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ سے اعانت ظہور میں آئی یعنی حضرت ممدوح نے اپنی عالی ہمتی اور کمال محبت دینی سے مبلغ دوسو پچاس روپیہ اپنی جیب خاص سے اور پچھتر روپیہ اپنے اور دوستوں سے فراہم کر کے تین سو چھپیں روپیہ بوجہ خریداری کتابوں کے عطا فرمایا۔عالی جناب سید نا وزیر صاحب ممدوح الا وصاف نے اپنے والا نامہ میں یہ بھی وعدہ فرمایا ہے کہ تا اختتام کتاب فراہمی چندہ اور بہم رسانی خریداروں میں اور بھی سعی فرماتے رہیں گے اور نیز اسی طرح حضرت فخر الدولہ نواب مرزا محمد علا ؤالدین احمد خان صاحب بہادر فرمانروائے ریاست لوہارو نے مبلغ چالیس روپیہ کہ جن میں سے بیس روپیہ محض بطور اعانت کتاب کے ہیں مرحمت فرمائے اور آئندہ اس بارہ میں مدد کرنے کا اور بھی وعدہ فرمایا ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحہ۶،۵) نواب شاہ جہان بیگم صاحبہ رئیسہ بھو پال نے وعدہ امدا د فر مایا تھا مگر وہ نواب صدیق حسن خانصاحب کے سلسلہ خط و کتابت میں ختم ہو گیا۔نواب سر وقار الامراء اقبال الدولہ حیدر آباد کا تذکرہ پہلے آچکا ہے کہ انہوں نے ایک سو روپیہ براہین کے ایک نسخہ کی قیمت میں بھیجا اور یہ حضرت اقدس کی ایک رؤیا کی بناء پر ہوا۔خاکسار پر ا حاشیہ۔نواب سر وقارالامرا اقبال الدولہ کے متعلق رویا میں نے صفحہ ۵۰ (موجودہ سیٹنگ کا صفحہ ۶۷) درج کر دی ہے۔نواب صاحب مرحوم حیدر آباد کے امیر کبیر اور پرائم منسٹر تھے۔آپ کا خاندان اپنے سلسلہ نسب میں حضرت گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ اولاد میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ