حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 69 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 69

حیات احمد ۶۹ جلد دوم حصہ اوّل امر کو پیش کرنا غیر ضروری سمجھتا ہوں خود حضرت کے کلام سے اسے بیان کر دیتا ہوں فرماتے ہیں: ”ہم نے صد ہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم علمی دلائل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی روشن تر دکھلایا گیا چونکہ یہ مخالفین پر فتح عظیم اور مؤمنین کے دل و جان کی مراد تھی اس لئے اُمراء اسلام کی عالی ہمتی پر بڑا بھروسہ تھا جو وہ ایسی کتاب لا جواب کی بڑی قدر کریں گے اور جو مشکلات اس کی طبع میں پیش آ رہی ہیں ان کے دور کرنے میں بدل و جان متوجہ ہو جائیں گے مگر کیا کہیں کیا لکھیں اور کیا تحریر میں لاویں۔اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ وَاللهُ خَيْرٌ وَأَبْقَى - بعض صاحبوں نے قطع نظر اعانت کے ہم کو سخت تفکر اور تر ڈو میں ڈال دیا ہے ہم نے پہلا حصہ جو چھپ چکا تھا اُس میں سے قریب ایک سو پچاس جلد کے بڑے بڑے امیروں اور دولتمندوں اور رئیسوں کی خدمت میں بھیجی تھیں اور یہ امید کی گئی تھی جو امرائے عالی قدر خریداری کتاب کی منظور فرما کر قیمت کتاب جواد نی رقم ہے بطور پیشگی بھیج دیں گے اور اُن کی اِس طور کی اعانت سے دینی کام بآسانی پورا ہو جائے گا اور ہزار ہا بندگانِ خدا کو فائدہ پہنچے گا۔اسی اُمید پر ہم نے قریب ڈیڑھ سو کے خطوط اور عرائض بھی لکھے اور بہ انکسار تمام حقیقت حال سے مطلع کیا مگر باستثناء دو تین عالی ہمتوں کے سب کی طرف سے خاموشی رہی نہ خطوط کا جواب آیا نہ کتابیں واپس آئیں مصارف ڈاک تو سب ضائع ہوئے لیکن اگر خدانخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔افسوس جو ہم کو اپنے معزز بھائیوں سے بجائے اعانت کے تکلیف پہنچ گئی۔“ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد اصفحہ ۶۲ ۶۳ ) پھر اسی سلسلہ میں آپ ان امراء ورؤساء کو توجہ دلاتے ہیں کہ کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس