حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 67
حیات احمد ۶۷ جلد دوم حصہ اول حقیقت یہ ہے کہ کتاب کے اعلان کے ساتھ ہی لوگ اس کی تائید اور نصرت کے لئے کھڑے ہو جاتے تو پیشگوئی کی اعجازی قوت اور خدا نمائی کی طاقت کا صحیح اندازہ نہ ہوتا بلکہ واقعات اور حالات پر تبصرہ کرنے والے معترض کہہ دیتے کہ مناسب وقت ایک آواز بلند کی گئی اور لوگوں نے اسے سنا اور ساتھ ہو گئے مگر ایسا نہ ہوا۔اعلان شائع ہوا لوگوں نے توجہ بھی نہ کی اور مالی مشکلات جو پہلے سے موجود تھیں بڑھ گئیں لیکن حضرت نے چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور وہم ہو کر اس کتاب کی تصنیف کا ارادہ کیا تھا۔اور خدا تعالیٰ نے ہی قبل از وقت تسلی دے دی تھی کہ وقت آتا ہے کہ تیری تائید اور نصرت ہوگی اس لئے کسی قسم کی گھبراہٹ اور اضطراب کا اظہار نہیں کیا گیا۔آپ نے کام شروع کر دیا۔اور ہر قسم کی مخالف آوازوں کے درمیان اسے جاری رکھا کبھی کبھی کوئی خوشگوار اور موافق آواز بھی بلند ہوتی تھی مگر مخالفت کے اس شور عظیم میں اس کا کیا اثر اور شنوائی ہو سکتی تھی یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ خدا تعالیٰ نے تائیدی سامان پیدا کر دیئے۔سیه سامان تائید ایسے رنگ اور واقعات میں پیدا ہوئے کہ انسانی دانش اور تدبر کا نتیجہ نہیں ہو سکتے تھے بلکہ محض تائید ربانی کا کرشمہ تھے۔اس لئے کہ امراء اسلام اور مسلم والیان ریاست کو آپ نے توجہ دلائی لیکن ان میں سے کوئی تائید کے لئے کھڑا نہ ہوا اور اگر کسی نے امداد کے لئے وعدہ بھی کیا تو دوسرے وقت اُس نے اپنے وعدہ کا پاس نہ کرتے ہوئے کسی ایک یا دوسرے خوف کی وجہ سے انکار کر دیا جیسا کہ میں اپنے موقع پر بیان کروں گا۔غرض آپ کو اس کتاب کی اشاعت کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ تھا اور سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے اشارے اور حکم سے آپ نے اس کام کو شروع کیا تھا اور بالآخر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت نے اپنا کرشمہ قدرت دکھایا۔براہین احمدیہ اور رؤسائے ہند جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں براہین احمدیہ کی اشاعت کے سلسلہ میں اس امر کا معلوم کرنا بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔کہ اس کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں ہندوستان کے مسلمان