حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 63 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 63

حیات احمد ۶۳ جلد دوم حصہ اول میر صاحب بطور ایک معاونِ خاص کے براہین کی اشاعت کے لئے کھڑے ہوئے۔اور وہ شبانہ روز اس کی اشاعت کی فکر میں تحریک اور کوشش کرتے رہتے تھے۔حضرت نے میر عباس علی صاحب کو ۲۸ / اکتوبر ۱۸۸۲ء مطابق ۱۵ رذی الحجہ ۱۲۹۹ھ کو ایک خط لکھا۔اس مکتوب شریف میں آپ نے براہین کے خریداران کے متعلق فرمایا :- دد مگر می مخدومی میر عباس علی صاحب زَادَ عِنَايَتُه - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچ کر باعث خوشی ہوا۔جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا۔آپ اللہ اور رسول کی محبت میں جس قدر کوشش کریں وہ جوش خود آپ کی ذات میں پایا جاتا ہے حاجت تاکید نہیں۔چونکہ یہ کام خالصا خدا کے لئے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لئے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی میں یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایسا خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید فروخت پر نظر ہو بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں انہیں کی خریداری مبارک اور بہتر ہے۔کیونکہ در حقیقت یہ کوئی خرید وفروخت کا کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرض آں مخدوم اس سعی اور کوشش میں خداوند کریم پر توکل کر کے صادق الا رادت لوگوں سے مدد لیں۔اور اگر ایسے نہ ملیں تو آپ کی طرف سے دعا ہی مدد ہے۔ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حیثیت اور کیا قدرت رکھتے ہیں۔وہ جو قادر مطلق ہے وہ جب چاہے گا تو اسباب کا ملہ خود بخود میسر کر دے گا۔کونسی بات ہے کہ اس کے آگے آسان نہ ہوئی ہو ؟“ مکتوبات احمد جلد اصفحہ ۵۰۷مطبوعه ۲۰۰۸ء) یہ مکتوب حضرت نے براہین کی طبع کے ابتدائی ایام میں لکھا۔جبکہ خریداران کی نہایت سخت ضرورت تھی۔اور اخراجات طبع کے لئے مختلف قسم کی دقتیں آپ کے سامنے تھیں۔آپ نے صاف طور پر ایک ایسے شخص کو جو اس کے معاونین کے گروہ کے جمع کرنے کے لئے دیوانہ وار کام کر رہا تھا ایک خاص راستہ پر ڈالدیا۔اور وضاحت سے لکھ دیا کہ یہ کوئی خرید وفروخت کا کام