حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 56 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 56

حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل چکی تھی وہ مجھے حضرت نے دے دی اور باقی کے لئے فرمایا کہ جس قدر نقل ہوتی جائے گی ہم بذریعہ ڈاک یا دستی بھیجتے رہیں گے۔آپ کا تاکیدی حکم تھا کہ کا پہیاں اور پروف رجسٹری کرا کر بھیجنا کہ کہیں گم نہ ہو جاوے۔میں کا پیاں اور اصل مضمون تو رجسٹری کرا دیتا لیکن پروف بغیر رجسٹری صرف ٹکٹ لگا کر بھیج دیتا۔مگر آپ بار بار یہی فرماتے کہ پروف بھی رجسٹری کرا کر روانہ کرو کہ اس میں احتیاط ہے اور آپ بھی جب پروف بھیجتے تو رجسٹری کراتے تھے۔غرض اس طرح پر مطبع سفیر ہند سے نکل کر براہین احمد یہ ریاض ہند پر لیس میں چلی گئی۔اور براہین احمدیہ ہی شیخ نور احمد صاحب کے پنجاب آنے اور پھر اسی سلسلہ میں داخل ہونے اور بالآخر قادیان کے مقبرہ بہشتی میں لانے کا موجب ہوئی۔براہین خدا جانے کتنی مرتبہ چھپے گی لیکن جو شرف اور سعادت شیخ نور احمد صاحب کے حصہ میں اس کے سب سے پہلا پرنٹر ہونے کی حیثیت سے آئی ہے۔اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو سکے گا۔براہین کی طباعت و اشاعت پر آپ نے پانی کی طرح روپیہ بہا دیا۔جو اُجرت پادری صاحب نے طلب کی آپ نے دے دی اور پیشگی دی۔سچ یہ ہے کہ آپ اشاعت کے کام میں اس قسم کی بحث کہ نرخ یہ ہو یا وہ۔یا گھٹیا قیمت کا کاغذ لگا دیا جاوے یا مصالحہ سیا ہی سستی ہو اس کو پسند ہی نہ فرماتے تھے بلکہ فرمایا کرتے کہ یہ ایک قسم کا شرک ہے۔غرض براہین احمدیہ کی طباعت کے لئے آپ نے یہ کوشش کی کہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کی ہو اور اس کے لئے جو اسباب اس وقت میسر آ سکتے تھے آپ نے ان کے فراہم کرنے میں کسی قسم کی کمی نہیں کی۔اس وقت پنجاب میں جو مطبع اعلیٰ درجہ کی طباعت کے لئے مشہور تھا اُس سے آپ نے انتظام کیا۔اور کچھ شک نہیں پادری رجب علی صاحب نے اس کے لئے پوری کوشش کی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ چھاپنے کے لئے اُنہوں نے شیخ نور احمد صاحب مرحوم کو مراد آباد سے طلب کیا۔