حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 578
حیات احمد ۵۷۸ جلد دوم حصہ سوم کہ یہ الہام إِنَّا أَرْسَلْنَاهُ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيرً ا كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيْهِ ظُلُمَاتٌ ورَعْدٌ وَ بَرْقَ كُلُّ شَيْءٍ تَحْتَ قَدَمَيْهِ۔یعنی ہم نے اس بچہ کو شاہد اور مبشر اور نذیر ہونے کی حالت میں بھیجا ہے اور یہ اُس بڑے مینہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں اور رعد اور برق بھی ہو۔یہ سب چیزیں اس کے دونوں قدموں کے نیچے ہیں یعنی اس کے قدم اٹھانے کے بعد جو اس کی موت سے مراد ہے ظہور میں آجائیں گی۔سو تاریکیوں سے مراد آزمائش اور ابتلا کی تاریکیاں تھیں جولوگوں کو اس کی موت سے پیش آئیں اور ایسے سخت ابتلا میں پڑ گئے جو ظلمات کی طرح تھا۔اور آیت کریمہ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا کے مصداق ہو گئے۔اور الہامی عبارت میں جیسا کہ ظلمت کے بعد رعد اور روشنی کا ذکر ہے یعنی جیسا کہ اس عبارت کی ترتیب بیانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پر متوفی کے قدم اٹھانے کے بعد پہلی ظلمت آئے گی اور پھر رعد اور برق اسی ترتیب کے رُو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا یعنی پہلے بشیر کی موت کی وجہ سے ابتلا کی ظلمت وارد ہوئی۔اور پھر اُس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے اور جس طرح ظلمت ظہور میں بقیہ حاشیہ محض للہ اس کی موت سے غم کیا اور اُس ابتلا کی برداشت کر گئے کہ جو اس کی موت سے ظہور میں آیا۔غرض بشیر ہزاروں صابرین و صادقین کے لئے ایک شفیع کی طرح پیدا ہوا تھا اور اُس پاک آنے والے اور پاک جانے والے کی موت ان سب مومنوں کے گناہوں کا کفارہ ہوگی۔اور دوسری قسم رحمت کی جوا بھی ہم نے بیان کی ہے اُس کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا جیسا کہ بشیر اول کی موت سے پہلے ۱۰ / جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں اس کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے۔وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔يَخْلُقُ اللهُ مَا يَشَآءُ اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔پہلے بشیر کی نسبت پیشگوئی ہے کہ جو روحانی طور پر نزولِ رحمت کا موجب ہوا۔اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے۔منہ البقرة: ٢١