حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 566 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 566

حیات احمد جلد دوم حصہ سوم ۱۸۸۶ء کا اشتہار اور نیز ۱۷ اگست ۱۸۸۷ء کا اشتہار کہ جو ۸ / اپریل ۱۸۸۶ء کی بناء پر اور اس کے حوالہ سے بروز تولد بشیر شائع کیا گیا تھا۔صاف بتلا رہا ہے کہ ہنوز الہامی طور پر یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ آیا یہ لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا کوئی اور ہے۔تعجب کہ لیکھر ام پشاوری نے جوش تعصب میں آکر اپنے اس اشتہار میں جو کہ اس کی جبلی خصلت بد گوئی و بدزبانی سے بھرا ہوا ہے اشتہارات مذکورہ کے حوالہ سے اعتراض تو کر دیا مگر آنکھیں کھول کر ان تینوں اشتہاروں کو پڑھ نہ لیا ہوتا تو جلد بازی کی ندامت سے بچ جاتا۔نہایت افسوس ہے کہ ایسے دروغ باف لوگوں کو آریوں کے وہ پنڈت کیوں دروغگو ئی سے منع نہیں کرتے۔جو بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنا اصول یہ بتلاتے ہیں کہ جھوٹ کو چھوڑنا اور تیا گنا اور سچ کو ماننا اور قبول کرنا آریوں کا دھرم ہے پس عجیب بات ہے کہ یہ دھرم قول کے ذریعہ سے تو ہمیشہ ظاہر کیا جاتا ہے مگر فعل کے وقت ایک مرتبہ بھی کام میں نہیں آتا۔افسوس ہزار افسوس۔اب خلاصہ کلام یہ کہ ہر دو اشتہار ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء اور ۷/ اگست ۱۸۸۷ء مذکورہ بالا اس ذکر و حکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اور کن صفات کا ہے۔بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کے رو سے غیر منفصل اور غیر مصرح ہے کہ ہاں یہ تعریفیں جو او پر گزر چکی ہیں ایک آنے والے لڑکے کی نسبت عام طور پر بغیر کسی تخصیص و تعیین کے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن اس حاشیہ۔عبارت اشتہار ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء یہ ہے کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا جواب پیدا ہو گا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں 9 برس کے عرصہ میں پیدا ہو گا۔دیکھو اشتہار ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء مطبع چشمہ فیض قادری بٹالہ۔عبارت اشتہار / اگست ۱۸۸۷ء یہ ہے۔کہ اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ۸/ اپریل ۱۸۸۶ء میں پیشگوئی کی تھی وہ ۱۶/ ذیقعدہ مطابق ۷/اگست میں پیدا ہو گیا۔دیکھو اشتہار ۷ / اگست ۱۸۸۷ء مطبوعہ وکٹوریہ پریس لاہور۔پس کیا ان تینوں اشتہارات میں جو لیکھرام پشاوری نے جوش میں آ کر پیش کی ہیں یو تک بھی اس بات کی پائی جاتی ہے کہ ہم نے کبھی پسر متوفی کو مصلح موعود اور عمر پانے والا قرار دیا ہے۔فَتَفَكَّرُوْا وَ تَدَبَّرُوْا۔