حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 563
حیات احمد ۵۶۳ جلد دوم حصہ سوم یہاں تک میں نے اس پیشگوئی کے متعلق تمام واقعات کو جمع کر دیا ہے۔یہ پیشگوئی اپنے مفہوم و منشاء کے مطابق پوری ہو گئی اس پر مخالفین نے مختلف اوقات میں اعتراضات کئے میں نے اس کا جواب آئینہ حق نما میں تفصیل سے دیا تھا اور میری اس تالیف کے بعد مختلف تصانیف اسی اساس پر شائع ہوئیں الحمدللہ چنانچہ مولانا ابوالعطا نے تفہیمات ربانیہ میں اعترافا لکھا کہ تالیفات مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر اور آئینہ حق نما مصنفہ جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے بالخصوص استفادہ کیا۔“ اس پیشگوئی کے بعد خاندان میں ایک شور دار جوش مخالفت پیدا ہوا۔اور تمام رشتہ دار مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوئے۔یہاں تک حضرت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بعض عزیزوں سے قطع تعلق کا اعلان کرنا پڑا۔چونکہ یہ سلسلہ بنا ہے اس لئے میں نے ۱۸۸۸ء تک کے واقعات متعلقہ پیشگوئی کا ذکر کیا ہے۔آئندہ اس سلسلہ میں جو واقعات پیش آئے ان کا ذکر ان سنینِ متعلقہ میں انشاء اللہ کروں گا۔بقیہ حاشیہ۔جس کی عبارت یہ ہے۔رَتَيْتُ هَذِهِ الْمَرْوَةَ وَ أَثَرَ الْبُكَاءِ عَلَى وَجْهِهَا فَقُلْتُ أَيَّتُهَا الْمَرْءَ ةُ تُوْبِى تُوْبِى فَإِنَّ الْبَلاءَ عَلَى عَقِبِكِ وَالْمُصِيْبَةُ نَازِلَةٌ عَلَيْكِ يَمُوْتُ وَ يَبْقَى مِنْهُ كِلَابٌ مُتَعَدِّدَةٌ * - منه یہ اشتہار ۳۸۴ کے دو صفحوں پر ہے ) A (مطبوعہ ریاض هند پریس امرتسر ) تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۱۲۰ حاشیہ۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۱۴۰ حاشیہ۔بار دوم ) ترجمه از تذکره صفحه ۱۰۸ حاشیہ مطبوعہ ۲۰۰۴ء۔میں نے اس عورت ( یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی ساس کو جو محمدی بیگم کی نانی اور مرزا امام الدین وغیرہ کی والدہ تھی) کو ایسے حال میں دیکھا کہ اُس کے منہ پر گریہ و بکاء کے آثار تھے۔تب میں نے اُسے کہا کہ اے عورت! تو بہ کر تو بہ کر کیونکہ ملا تیری نسل کے سر پر کھڑی ہے اور یہ مصیبت تجھ پر نازل ہونے والی ہے۔وہ شخص ( یعنی مرزا احمد بیگ) مرے گا اور اس کی وجہ سے کئی سنگ سیرت لوگ ( پیدا ہو کر ) پیچھے رہ جائیں گے۔