حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 558
حیات احمد ۵۵۸ جلد دوم حصہ سوم نے اس طرف رخ بھی نہ کیا۔پادری لوگ مدت سے الہام پر مہر لگا بیٹھے تھے۔اب جب مہر ٹوٹی اور فیض روح القدس مسلمانوں پر ثابت ہوا۔تو پادریوں کے اعتقاد کی قلعی کھل گئی۔لہذا ضرور تھا کہ پادریوں کو ہمارے الہام سے دو ہرا رنج ہوتا۔ایک مہر ٹوٹنے کا۔دوسرے الہام کی نقل منگانے کا۔سونو ر افشاں کی سخت زبانی کا اصل موجب وہی رنج ہے جو ذ بولے دق کی طرح لا علاج ہے۔اب یہ جاننا چاہئے کہ جس خط کو ۱۰ رمئی ۱۸۸۸ء کو نو را فشاں میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے۔وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ایک مدت دراز سے بعض سرگروہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کے حقیقی ہمشیرہ زادہ کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔نشان آسمانی کے طالب تھے۔اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد رکھتے تھے۔اور اب بھی رکھتے ہیں۔چنانچہ اگست ۱۸۸۵ء میں جو چشمہ نور امرتسر میں ان کی طرف سے اشتہار چھپا تھا۔یہ درخواست ان کی اس اشتہار میں بھی مندرج ہے۔ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے بھی دشمنی ہے ، اور والد اس دختر کا باعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل و جان سے فدا اور اپنے اختیارات سے قاصر و عاجز بلکہ انہیں کا فرمانبردار ہو رہا ہے اور اپنی لڑکیاں انہیں کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔اور ہر باب میں اس کے مدارالمہام اور بطور نفس ناطقہ کے اس کے لئے ہو رہے ہیں تبھی تو نقارہ بجا کر اس کی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی۔یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھر دیا۔آفریں بریں عقل و دانش۔ماموں ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا۔ماموں ہوں تو ایسے ہی ہوں۔غرض یہ لوگ جو مجھ کو میرے دعوئی الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے تھے۔اور اسلام اور قرآن شریف پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لئے دعا بھی کی گئی تھی۔سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔تفصیل اس کی یہ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی