حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 549
حیات احمد ۵۴۹ مرزا احمد بیگ کے تعلقات جلد دوم حصہ سوم مرزا احمد بیگ ہوشیار پور میں مقیم ایک معزز مغل خاندان کا فرد تھا اور اس خاندان کے تعلقات قادیان کے ممتاز اور بانی قادیان کے خاندان سے ان کے تعلقات رشتہ داری برابر چلے آتے تھے۔میں نے حیات احمد کی پہلی جلدوں میں بیان کیا ہے کہ دولت و ثروت اور حکومت کے لحاظ سے تو قادیان ہی کا خاندان ممتاز تھا مگر اس خاندان نے اپنی ہی قوم سے خواہ وہ اپنی دنیوی حیثیت بناوٹی سے کچھ نسبت نہ رکھتے تھے رشتہ داریوں کو قائم رکھا۔اسی خاندانی دستور کے موافق مرزا احمد بیگ کے خاندان سے قرابت اور رشتہ داری تھی۔مرزا احمد بیگ کے نکاح میں حضرت اقدس کی چچا زاد بہن عمر النساء بیگم صاحبہ تھیں اور مرزا احمد بیگ کے بڑے بھائی مرزا محمد بیگ کے حبالہ نکاح میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہمشیرہ تھیں مگر مرزا احمد بیگ ان لوگوں کی حرکات سے پہلے ہی فوت ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس عفیفہ صالحہ کے رشتہ کی وجہ سے اس عذاب سے جو اس خاندان پر آیا اسے محفوظ کر دیا۔جدی بھائی حضرت کے اشتہار ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء میں جدی بھائیوں کی ہر شاخ کے کاٹے جانے کا ذکر ہے یہ جدی بھائی مرزا امام الدین، مرزا نظام الدین، مرزا کمال الدین صاحبان ابنائے مرزا غلام محی الدین مرحوم ( جو حضرت کے عم مکرم تھے ) تھے اور ان کی تین بہنیں تھیں ایک مرزا احمد بیگ کی منکوحہ تھیں دوسرے جناب مرزا غلام قادر صاحب مرحوم برادر بزرگ حضرت اقدس کے حبالہ نکاح میں تھیں اور تیسری مرزا اکبر بیگ ابن مرزا اعظم بیگ رئیس لاہور کی اہلیہ تھیں، بھائیوں میں سے صرف مرزا نظام الدین صاحب کا ایک بیٹا بیچا جو احمدی ہو گیا اور اس کی نسل قائم رہی اس نے رجوع سے فائدہ اٹھایا۔تینوں بہنوں نے مختلف اوقات میں احمدیت کو قبول کر لیا اور رجوع کیا۔مرزا کمال الدین کا