حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 547 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 547

حیات احمد ۵۴۷ جلد دوم حصہ سوم بھیدوں کو جانتا ہے۔اور ان کی مدد کرتا ہے جو اس کے خالص بندے ہیں۔لیکن لہو ولعب کے طور پر اپنا نام لینا پسند نہیں کرتا۔پس اگر پادری وائٹ بریخنٹ صاحب ایک عام جلسہ بٹالہ میں منعقد کر کے اس جلسہ میں حلفا اقرار کریں کہ اگر مضمون کسی بند لفافہ کا جو میری طرف سے پیش ہو۔دس ہفتہ تک مجھ کو بتلایا جاوے تو میں بلا توقف دین مسیحی سے بیزار ہو کر مسلمان ہو جاؤں گا۔اور اگر ایسا نہ کروں تو ہزار روپیہ جو پہلے سے کسی ثالث منظور کردہ کے پاس جمع کرادوں گا۔بطور تاوان انجمن حمایت اسلام لاہور میں داخل کیا جاوے گا۔اس تحریری اقرار کے پیش ہونے کے اور نیز نورافشاں میں چھپنے کے بعد اگر دس ہفتہ تک ہم نے لفافہ بند کا مضمون بتلا دیا تو ایفاء شرط کا پادری صاحب پر لازم ہوگا۔ورنہ ان کے روپیہ کی ضبطی ہوگی۔اور اگر ہم بتلا نہ سکے تو ہم دعویٰ الہام سے دست بردار ہو جائیں گے۔اور نیز جوسزا زیادہ سے زیادہ ہمارے لئے تجویز ہو وہ بخوشی خاطر اٹھالیں گے۔فقط ( یہ اشتہار " پر دو صفحے کا ہے ) کا المعلن خاکسار غلام احمد قادیانی۔۹رجون ۱۸۸۸ء (مطبوعہ ریاض ہند پر لیس امرتسر ) تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۱۰۸ تا ۱۱۱ مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۱۳۲،۱۳۱۔بار دوم ) اس مقابلہ نے بٹالہ مشن کو سخت نقصان پہنچایا اور اسلام کو عیسائیت کے مقابلہ میں فتح عظیم حاصل ہوئی عیسائیوں سے یہ پہلا پبلک مقابلہ تھا۔اخبارات میں حضرت اقدس کے اکثر مضامین شائع ہوا کرتے تھے۔اس مقابلہ سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بٹالہ کے مسلمانوں میں عیسائیت کی طرف جو بعض نوجوان آمادہ ہو رہے تھے وہ روڑک گئی بلکہ یہ حقیقت ہے کہ عیسویت کی تبلیغ کو یہاں بے اثر کر دیا گیا ورنہ اس سے پہلے بعض مسلمان عیسائی ہو چکے تھے جن میں سے ایک مولوی قدرت اللہ صاحب واپس ہو چکے تھے۔اس کی تفصیل حیات احمد کی سابق جلدوں میں آچکی ہے۔