حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 536
حیات احمد ۵۳۶ جلد دوم حصہ سوم ہونا چاہئے کہ ہم اس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دکھ دیئے جائیں اور ستائے جائیں“۔تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحه ۸۳ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۱۰۸ بار دوم ) دو پھر آپ نے ایک مفصل اشتہار بنام " حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر“ شائع کیا۔اس میں آپ نے بتلایا کہ یہ الہامی طور پر تصفیہ نہیں ہوا تھا کہ یہی وہ مصلح موعود لڑکا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ اگر چہ بشیر اول اپنی ذاتی استعدادوں کے لحاظ سے بڑی عظمت اور شان والا لڑکا تھا۔اور یہ استعداد میں اس کے اندر اسی طرح موجود تھیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کے اندر نبوت کی استعداد موجود تھی۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيْمُ لَكَانَ صِدِّيْقًا نَبِيًّا ایسی ہی استعدادوں کے ساتھ یہ بشیر بھی آیا۔وہ کیوں فوت ہوا؟ اس کی وفات کی یہی وجہ تھی کہ وہ خود مصلح موعود نہ تھا بلکہ جیسے حضرت اقدس نے سبز اشتہار کے حاشیہ صفحہ ۲۱ پر لکھا ہے:۔بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے۔بشیر ثانی کے لئے بطور ا رہاص تھا۔“ ( سبز اشتہار صفحہ ۲۱۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۷ ) وہ مصلح موعود کی پیشنگوئی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے آیا تھا۔اگر بشیر اول زندہ رہتا تو لوگوں کی توجہ اس کی طرف ہوتی۔اور یہ قدر ہوئی۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ مصلح موعود نہ تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص نے اسے مصلح موعود کے لئے راستہ صاف کرنے کے لئے بھیجا تھا۔یہ مختصر حالات ہیں بشیر اوّل کے۔اس طرح وہ ۷ / اگست ۱۸۸۷ء کو رات کے ڈیڑھ بجے کے قریب پیدا ہوا۔اور ۴ / نومبر ۱۸۸۸ء بروز یکشنبہ اپنی عمر کے سولہویں مہینہ میں فوت ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - ترجمہ۔اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔