حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 534
حیات احمد ۵۳۴ جلد دوم حصہ سوم حضرت حکیم الامت کو آپ نے جو مختصر خط لکھا۔اس میں دو امور کی طرف اشارہ فرمایا:۔اب مخالفوں کی زبانیں دراز ہوں گی۔موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے۔سوالیسا ہی ہوا۔ایک بڑا زلزلہ آیا۔مخالفت کا طوفانِ بے تمیزی اٹھا سیرت المہدی حصہ اوّل مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے صفحہ پر لکھا ہے:۔مگر قدرت خدا کہ ایک سال بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہو گیا۔بس پھر کیا تھا۔ملک میں طوفانِ عظیم برپا ہوا۔اور سخت زلزلہ آیا حتی کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری کا خیال کہ ایسا زلزلہ عامتہ الناس کے لئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا نہ اس کے بعد آیا۔گویا وہ دعویٰ مسیحیت پر جو زلزلہ آیا تھا اسے بھی عامۃ الناس کے لئے اس سے کم قرار دیتے ہیں۔مگر بہر حال یہ یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شوراٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے۔۔۔حضرت صاحب نے لوگوں کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہ وہی لڑکا ہے ہاں میں نے کہا تھا کہ چونکہ اس لڑکے کے متعلق مجھے بہت الہام ہوئے ہیں۔جن میں اس کی بڑی ذاتی فضیلت بتائی گئی تھی اس لئے میرا خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود لڑکا ہو۔مگر خدا کی وحی میں جو اس معاملہ میں اصل اتباع کے قابل ہے، ہرگز کوئی تعیین نہیں کی گئی تھی۔غرض لوگوں کو بہت سنبھالا گیا چنانچہ بعض لوگ سنبھل گئے لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا۔مخالفین میں پرلے درجہ کے استہزا کا جوش تھا۔“ یہ ایسا وقت تھا کہ دشمن تو دشمن اپنے بھی بہت خطرے میں پڑ گئے تھے۔حضرت اُم المؤمنین نے جو اس وقت رضا بالقضاء کا نمونہ دکھایا اس کی یہ حالت تھی کہ آپ نے جب دیکھا کہ بچے کے اب بچنے کی کوئی صورت نہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں پھر نماز کیوں ملہ سیرت المہدی جلد ا مطبوعہ ۲۰۰۸ء میں یہ روایت صفحہ ۹۵ پر ہے۔(ناشر)