حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 45
حیات احمد ۴۵ جلد دوم حصہ اوّل مسکت طریق استدلال ہے جس کے مقابلہ میں کوئی مذہب ٹھہر نہیں سکتا۔چنانچہ اسی سلسلہ سیرۃ میں جہاں حضرت کے علم کلام پر بحث کروں گا انشاء اللہ دکھاؤں گا کہ بہ حیثیت ایک متکلم کے بھی آپ مجد د تھے آپ نے علم کلام میں وہ رنگ پیدا کر دیا کہ اس سے پہلے کسی دوسرے کو وہ بات نصیب نہیں ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ حاضرہ کی مقتضیات ایسے ہی عظیم الشان مجد دو متکلم کی داعی تھیں۔سب سے بڑی اور نمایاں بات جو آپ کے علم کلام میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ الہامی کتاب خود ہی دعویٰ کرے اور آپ ہی اس دعوے کی تائید کے دلائل دے۔نیز آپ منکرین و معترضین اسلام کے حملوں کے جواب میں پہلے جس چیز کو لیتے وہ کتاب اللہ کی ذاتی خوبیوں اور تعلیم کے کمالات کا اظہار اور معقولی رنگ میں اس کا قابلِ قبول ہونا تھا۔آپ صرف معترضین کا منہ بند کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ صداقت اور حق کو ایسے رنگ میں پیش کرنا چاہتے تھے کہ لوگ اسے قبول کریں۔اور اس کے بعد الزامی جواب دینا بھی کرھا چاہتے تھے۔کہ دروغ گورا تا بخانه اش باید رسانید اور کچھ فطرت انسانی بھی اسی قسم کی واقع ہوئی ہے۔غرض مولوی چراغ علی صاحب کے نام کے مکتوبات کو مولوی عبد الحق صاحب نے پیش کر کے ان سے غلط نتیجہ نکالا ہے اور سچ یہی ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی اور مدد کے بغیر کسی دوسرے انسان کا ہاتھ نہیں۔اور آپ نے جو کچھ بھی اس میں لکھا وہ خدا تعالیٰ کی تائید کا ایک کھلا کھلا نشان ہے۔اور براہین احمدیہ کی خصوصیات پکار پکار کر ایسے دوسرے مصنفین کے طریق استدلال اور اسلوب بیان میں ممتاز کر رہی ہیں عاقلی را اشاره بس است کسی براہین احمدیہ کی تصنیف کے وقت آپ کی حالت براہین احمدیہ کی تصنیف کی تحریک اور اسباب کا میں ذکر کر چکا ہوں۔اب میں بتاؤں گا کہ جب آپ نے اس کام کو شروع فرمایا۔اس وقت آپ کی کیا حالت تھی؟ اور دنیوی اسباب کس حد لے ترجمہ۔جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانا چاہیے۔کے ترجمہ عقل مند کو اشارہ کافی ہے۔