حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 530 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 530

حیات احمد ۵۳۰ جلد دوم حصہ سوم ہے اس میں تحریر فرمایا کہ تین روز کی رخصت لے کر حسب ذیل اشیاء عقیقہ کے لئے ساتھ لائیں۔روغن زرد عمدہ ڈیڑھ من خام تیس روپیہ نقد ارسال فرما ئیں۔تین بوتل عمدہ چٹنی۔ہیں ثار آلو پختہ۔چار ثار اربی پختہ کسی قدر میتھی پالک وغیرہ تر کاری۔پان بھی طلب فرمائے تھے۔پھر ایک اور ملفوف تحریر فرمایا۔جس میں پھر خیمہ سائیان کی ضرورت پر تحریر فرمایا:۔مہمان عقیقہ کے روز اس قدر آئیں گے۔کہ مکان میں گنجائش نہیں ہوگی۔یہ وو آپ کے لئے ثواب حاصل کرنے کا نہایت عمدہ موقع ہے۔“ ( مکتوبات احمد یہ جلد نمبر ۳ صفحه ۴۶۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۵۱۳، مطبوعہ ۶۲۰۰۸) ان خطوط سے اس انہماک کا پتہ لگ سکتا ہے، جو حضور کو صاحبزادہ بشیر احمد اول کی پیدائش پر عقیقہ کے متعلق تھا الغرض سب سامان ہو گئے۔بکثرت احباب قادیان میں جمع ہوئے۔اور خدا تعالیٰ کے اس فضل کا شکر کرتے رہے۔☆ اس طرح حضرت ام المؤمنین کے بطن مبارک سے جولڑ کی پیدا ہوئی تھی وہ اپنی ذات میں مومنوں کے ایمان میں ایک نئی قوت پیدا کرنے کے لئے آئی تھی۔اور یہ مبارک لڑکا جو بہت بڑی استعدادوں کے ساتھ اس دنیا میں آیا تھا۔والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا ہوا تھا۔کیسی مبارک ہے وہ ماں جس کی بچی کی یہ شان تھی کہ خدا نے اسے كَرَمُ الْجَنَّةِ دَوْحَةُ الْجَنَّةِ کہا۔اور جس کے بیٹے کی یہ شان۔کہ خدا تعالیٰ اسے اپنے عرش پر مبشر۔بشیر۔نوراللہ۔چراغ دین وغیر ہ اسماء سے یا د فرما رہا تھا۔یہ کھلی کھلی دلیل تھی کہ یہی وہ خاتون تھی کہ جس میں اس قدر پاکیزہ استعداد تھی ، کہ وہ مسیحی صفت بچے پیدا کر سکے ایسی ماں کی عظمت میں کیا شک ہو سکتا ہے۔الغرض بشیر احمد اول اپنے مقدس اور بزرگ باپ اور عظیم الشان ماں کی آغوش میں شفقت کے ساتھ بڑھنے لگا۔حضرت ام المومنین کو اس کے آرام کا بہت بڑا خیال تھا۔چنانچہ خاص اس بچہ کی خدمت کے لئے ایک نوکر کی تلاش ہوئی۔ترجمہ۔انگور کی جنتی بیل۔جنت کا بڑا درخت ( ناشر )