حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 529 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 529

حیات احمد ۵۲۹ جلد دوم حصہ سوم ایک الہام اس کے متعلق یہ ہوا تھا: - جَاءَ كَ النُّورُ وَ هُوَ اَفْضَلُ مِنْكَ لا (تذکره صفحه ۱۲۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء) اس بچے کی پیدائش پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔حضرت اقدس نے اس کے عقیقہ کی تقریب پر بہت سے دوستوں کو اس خوشی میں مدعو کیا تھا۔یہ خوشی کی تقریب عام دنیا داروں کی طرح نہ تھی جو بچوں کے پیدا ہونے پر خوشیاں مناتے ہیں بلکہ آپ کی غرض یہ تھی کہ آپ اس بچے کی پیدائش پر جس کی روحانی استعداد کا علم قبل از وقت دیا گیا تھا۔جس کا وجود اسلام کی سچائی کے لئے ایک چمکتے ہوئے نشان کی طرح تھا۔خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر کریں۔پس یہ خوشی دراصل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اظہار کے لئے تھی۔آپ نے اپنے دوستوں کو خط لکھ کر اس تقریب پر بلایا چنانچہ حضرت رستم علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ نے ایک مکتوب تحریر فرمایا جو حسب ذیل ہے:۔" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج سولہویں ذیقعدہ ۱۳۰۴ھ بِفَضْلِهِ تَعَالَی وَ كَرْمِہ اس عاجز کے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔۲۲؍ ذیقعدہ مطابق ۱۳ اگست روز عقیقہ ہے۔اگر کچھ موجب تکلیف و حرج نہ ہو تو آپ بھی تشریف لا کر ممنون احسان فرما دیں۔فقط ۱۷ اگست ۱۸۸۷ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر سوم صفحه ۴۳ ۴۴۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۱۰۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) پھر ۱۰/ اگست کو ایک کارڈ تحریر فرمایا کہ دو شطرنجی کلاں بھی دو روز کے لئے ساتھ لائیں۔پھر ایک دوسرا کارڈ اسی روز اور تحریر فرمایا۔کہ ایک سائبان بھی درکار ہے جو خیمہ کی طرز کا ہو۔کیونکہ مکان کی تنگی ہے۔پھر ایک مکتوب ملفوف تحریر فرمایا۔جس پر تاریخ نہیں۔مگر اغلبا وہ بھی اسی روز کا لکھا ہوا والسلام ترجمہ۔تیرے پاس نو ر آ رہا ہے جو اپنے کمالاتِ استعداد یہ میں تجھ سے افضل۔ہے۔