حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 521
حیات احمد ۵۲۱ جلد دوم حصہ سوم ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ از ماست یعنی ہم میں سے ہے۔پھر ہمارے سلسلہ کا دستور ہے، کہ بعد از نماز عشاء ہم کسی سے کلام نہیں کرتے ، اور سو جاتے ہیں۔ایک دن ہم نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور پوچھا کہ یہ شخص دعوی میں بہت بلند ہو گیا ہے ، ہم کیا کریں؟ تو آپ نے فرمایا ، " که در عشق ما دیوانه شده است“۔یعنی ہمارے عشق میں دیوانہ ہو گیا ہے۔پھر ہمارے سلسلہ کا تیسرا دستور یہ ہے کہ پچھلی رات تہجد کی نماز پڑھ کر ذرا لیٹ جاتے ہیں۔ایک دفعہ اس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا ، تو ہم نے آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! اس شخص پر کفر کے فتوے مسلمانوں کی طرف سے شائع ہو گئے ہیں۔ہم کیا کریں؟ تو آپ نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا "هُوَ صَادِقَ - هُوَ صَادِق"۔هُوَ صَادِق “ ( یعنی وہ سچا ہے۔وہ سچا ہے۔وہ سچا ہے ) اس کے بعد یہ لکھا کہ یہ ہماری گواہی ہے۔ہم قیامت کے دن کی پرسش سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ماننایا نہ مانا یہ تمہارا کام ہے۔نیچے پیر صاحب کے دستخط تھے۔اس کے نیچے ان کے صاحبزادہ نے لکھا کہ تمہارے والد ہمارے والد کے مرید تھے ، اس لئے تم بھی اسی سلسلہ میں بیعت کر لو میں نے اس کا کوئی جواب ان کو نہ دیا۔خط میرے پاس محفوظ تھا۔شیخ رحمت اللہ صاحب لاہور والے جو تاجر تھے بمبئی میں آیا کرتے تھے اور ان سے گفتگو ہوا کرتی تھی۔مدر اس والے سیٹھ عبدالرحمن کے چھوٹے بھائی صالح محمد سیٹھ سے بھی حضرت صاحب کے متعلق اکثر گفتگو ہوا کرتی تھی۔میں نے پیر صاحب کا وہ خط ان کو بتایا ، تو صالح محمد سیٹھ نے کہا کہ اب کونسی چیز کا انتظار کرتے ہو ؟ شیخ رحمت اللہ صاحب انجام آتھم کے ابتدائی آٹھ صفحے جو چھپے تھے ، بمبئی آتے ہوئے لے آئے ، انہوں نے یہ مضمون مجھے سنایا ، تو میں نے اسی دن حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔الحمد اللہ ! پیر صاحب کا خط شیخ رحمت اللہ صاحب مجھ سے لے گئے۔نہ معلوم ان کے پاس رہایا انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ اس سے میری غرض صاحب العلم کی شہادت کی توثیق ہے۔