حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 520
حیات احمد ۵۲۰ جلد دوم حصہ سوم حضرت مرزا صاحب کی تصدیق کی طرف جاتا اور مولوی صاحبان کے جو مضامین آتے تھے ، انہیں پڑھ کر ہنسی آتی تھی۔مگر پھر بھی بے پروائی جاری رہی۔میں سوچتا تھا ، ہم کو کیا ضرورت ہے کہ اس شخص کو مانیں ، کیونکہ ہماری قوم کا ہر فرد پیر کے ہاتھ پر بیعت کرتا تھا ، اور یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ ہم سے اعمال کی پرسش نہیں ہوگی۔جس پیر کے ہاتھ پر ہم بیعت کر چکے ہیں ، قیامت کے دن اس کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوں گے ، اور خدا تعالیٰ سے سوال جواب پیر ہی کرے گا اور ہم کو سیدھا جنت میں بھیج دیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ دل میں یہ خیال بھی آتا تھا ، کہ میں نے خود ابھی تک کسی پیر کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی ہے۔والد صاحب کی زندگی میں جب میری عمر چودہ پندرہ سال کی تھی ، میں نے ان کے پیر کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔آخر میں نے دل کی تڑپ سے والد صاحب کے پیر کو جن کا نام شاید رشید الدین ہی تھا ، اور جو پیر سائیں جھنڈے والے کہلاتے تھے ، اور جن کی عمر ۱۸۹۵ء میں ساٹھ ستر سال کی تھی فارسی میں خط لکھا کہ یہ شخص مرزا غلام احمد مدعی مسیحیت و مهدویت کون ہے؟ اس کے متعلق آپ ہم کو مشورہ دیں۔اگر وہ سچا ہے اور آپ نے ہماری رہ نمائی نہ کی ، یا وہ جھوٹا ہے اور آپ نے ہم کو اس کے پھندے سے نہ چھڑایا ، تو قیامت کے دن ہم آپ کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔میرے والد آپ کے مرید تھے اور میں نے اب تک کسی کی بیعت نہیں کی ہے ، ہم تو دنیا دار اور اندھے ہیں۔آپ ولی اللہ اور صاحب کرامات ہیں۔آپ سچی گواہی دیں۔ان کا جواب آیا، کہ ہم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے تین دفعہ خبر دی گئی ہے کہ یہ شخص سچا ہے۔ہمارے سلسلہ کا دستور ہے، کہ مغرب اور عشاء کے درمیان ہم اور ہمارے مرید حلقہ میں بیٹھ کر ذکر الہی کیا کرتے ہیں۔ایک دفعہ اس حالت میں ہم نے دیکھا، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔اور یہ کشفی حالت تھی ، یعنی ذکر اللہ بھی جاری تھا ، جاگتے بھی تھے ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔میں نے پوچھا ، یا رسول اللہ ! یہ شخص کون ہے؟ سچا ہے یا جھوٹا حاجی عبد اللہ رشید الدین بتاتے ہیں شاید رشیدالدین ہی صحیح ہو۔عرفانی